ایئر یونیورسٹی اسلام آباد کا 13 واں کانووکیشن ، 1,585 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):ایئر یونیورسٹی اسلام آباد میں 13 واں کانووکیشن مرکزی کیمپس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری اور ایچ ای سی کے قائم مقام چیئرمین ندیم محبوب تھے۔ کانووکیشن میں مجموعی طور پر 1,585 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں، جن میں 42 پی ایچ ڈی اسکالرز، 42 گولڈ میڈلسٹ اور 26 سلور میڈلسٹ شامل تھے۔اپنے …

اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):ایئر یونیورسٹی اسلام آباد میں 13 واں کانووکیشن مرکزی کیمپس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری اور ایچ ای سی کے قائم مقام چیئرمین ندیم محبوب تھے۔ کانووکیشن میں مجموعی طور پر 1,585 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں، جن میں 42 پی ایچ ڈی اسکالرز، 42 گولڈ میڈلسٹ اور 26 سلور میڈلسٹ شامل تھے۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل (ر) عبدالمعید خان ،ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے کامیاب طلبہ کو شاندار تعلیمی کارکردگی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے بتایا کہ معیاری تعلیم، اعلیٰ تربیت یافتہ فیکلٹی اور جدید پروگرامز کی بدولت ایئر یونیورسٹی کی بین الاقوامی رینکنگ میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔

انہوں نے خصوصاً کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی میں یونیورسٹی کی نمایاں کارکردگی کو سراہا، جہاں سے گریجویٹس ملک خصوصاً دفاعی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔وائس چانسلر نے بتایا کہ ایئر یونیورسٹی کے ملک بھر میں اب چھ فعال کیمپس کام کررہے ہیں، جن میں اسلام آباد، ملتان، کامرہ، کھاریاں اور کراچی شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاک فضائیہ کی حمایت سے ایئر یونیورسٹی شورکوٹ کینٹ میں ایک نیا کیمپس قائم کرنے جا رہی ہے، جس کے لیے زمین اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے والدین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے بچوں کا مستقبل ایئر یونیورسٹی کے سپرد کیا۔

وائس چانسلر نے گریجویٹس کو یاد دلایا کہ وہ ہمیشہ ایئر یونیورسٹی فیملی کا حصہ رہیں گے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ، تعلیمی یا بطور مینٹر یونیورسٹی سے جڑے رہیں اور حاصل شدہ علم و ہنر کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ندیم محبوب نے گریجویٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کی تعلیمی فضا فراہم کرنے پر ایئر یونیورسٹی کی قیادت، فیکلٹی اور انتظامیہ کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی تیز رفتاری سے ترقی اور بڑھتی ساکھ اس کے تعلیمی معیار کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے تناظر میں ایئر یونیورسٹی کے جدید اور مستقبل کے تقاضوں پر مبنی پروگرامز کی تعریف کی، جو ملک کو ایسے نوجوان فراہم کر رہے ہیں جو قائدانہ صلاحیتوں اور جدت کے حامل ہیں۔ انہوں نے خصوصاً کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سکیورٹی میں ایئر یونیورسٹی کی نمایاں حیثیت کو سراہا۔

انہوں نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ سیکھنے کا عمل کبھی نہ روکیں اور بطور ذمہ دار شہری ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے روشن مستقبل کے لیے نوجوانوں کو پاکستان کا اصل سرمایہ قرار دیا۔ آخر میں مہمانِ خصوصی نے پی ایچ ڈی ڈگریاں، گولڈ اور سلور میڈلز تقسیم کیے۔

مزید خبریں