سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کسانوں، گوداموں، بینکوں اور خریداروں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کے لیے قومی زرعی سپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ایس ای سی پی کی قومی زرعی سپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز، کسانوں کو فنانسنگ اور شفاف تجارت سے جوڑا جائے گا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کسانوں، گوداموں، بینکوں اور خریداروں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کے لیے قومی زرعی سپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد کسانوں کو فصلوں کی بہتر قیمت دلانا، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنا اور قرضوں تک ان کی رسائی بڑھانا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس مشن 100 بلین ڈالر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ مارکیٹ میں معیار کی یکساں درجہ بندی، شفاف بولیوں اور الیکٹرانک ویئر ہائوس رسیدوں کے ذریعے زرعی تجارت کو جدید بنایا جائے گا۔ زرعی منڈیوں کی نگرانی کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس رہے گا جبکہ ایس ای سی پی تکنیکی نظام کی فراہمی میں سہولت فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ زرعی منڈیوں میں اصلاحات پوری معیشت کے لیے اہم ہیں کیونکہ زراعت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں 23.44 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ ملک کی فصلوں کی مجموعی مالیت تقریباً 8,800 ارب روپے ہے، اس لیے ذخیرہ کاری اور فصلوں کی خرید و فروخت کے نظام میں بہتری سے نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کٹائی کے بعد فصلوں کے نقصانات کے 20 سے 40 فیصد تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کے ہر ایک فیصد نقصان کی مالیت تقریباً 88 ارب روپے بنتی ہے۔ فصلوں کی بہتر دیکھ بھال، محفوظ ذخیرہ کاری اور موثر ترسیل سے ان نقصانات کو کم کرنے اور کسانوں کی آمدن بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی نے زرعی پیداوار اور منظور شدہ گوداموں کی گنجائش کے درمیان بڑے فرق کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں منظور شدہ گوداموں کی مجموعی گنجائش تقریباً 3 لاکھ 26 ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ عام گوداموں میں ذخیرہ کی جا سکنے والی خشک زرعی اجناس کی سالانہ پیداوار تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید گوداموں، کولڈ سٹوریج اور موثر ترسیلی نظام کی ترقی سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے،یہ سہولتیں فصلوں کا ضیاع کم کرنے کے ساتھ برآمدی خریداروں تک رسائی بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ڈاکٹر سدھو کے مطابق مجوزہ نظام کا ایک اہم جزو الیکٹرانک ویئر ہائوس رسیدوں کا فروغ ہوگا جن کے ذریعے کسان منظور شدہ گوداموں میں رکھی گئی فصل کے عوض بینک قرض حاصل کر سکیں گے۔ محفوظ ذخیرہ اور فنانسنگ کی دستیابی سے کسانوں پر کٹائی کے فوراً بعد فصل فروخت کرنے کا دبائو کم ہوگا اور انہیں فروخت کے وقت کا بہتر فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ سپاٹ مارکیٹ میں گندم، چاول، مکئی، کپاس اور چینی کو مرحلہ وار شامل کرنے کی تجویز ہے۔ وزن، معیار اور درجہ بندی کے یکساں اصول اور شفاف بولیاں قیمتوں کے تعین کا نظام بہتر بنانے اور کسانوں کو مسابقتی قیمت دلانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی نے آڑھتیوں اور تاجروں کی رجسٹریشن، لین دین اور ذخیرے کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے اور کسانوں کو بروقت ادائیگی کے لیے قابل اعتماد نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے جواب دہی بڑھے گی اور کسانوں اور خریداروں کا تحفظ بہتر ہوگا۔انہوں نے زرعی منڈیوں کے قواعد، لائسنسنگ، فیس اور اجناس کی نقل و حرکت کے طریقہ کار کو جدید بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی تاکہ زرعی تجارت زیادہ موثر اور شفاف بنائی جا سکے۔کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ایس ای سی پی نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ سے جوڑنے اور مالیاتی آگاہی عام کرنے کی ایک جامع مہم شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مالی خواندگی میں بہتری ضروری ہے تاکہ لوگ مالیاتی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو سمجھ کر باخبر فیصلے کر سکیں۔ ایس ای سی پی سٹاک مارکیٹ میں اکائونٹ کھولنے کا عمل آسان بنانے کے لیے بھی اصلاحات کر رہا ہے۔
ڈاکٹر سدھو نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج علاقائی بے یقینی کے باوجود سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے تاہم مالیاتی منڈیوں کی ترقی کے لیے صارفین اور سرمایہ کاروں کا تحفظ اور نظام پر ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔آڈٹ کی نگرانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد مالیاتی رپورٹنگ، حصص کی قدر کے درست تعین اور سرمایہ کاری کے باخبر فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے آڈٹ فرموں کی نگرانی کے لیے الگ اور خودمختار قانونی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نگرانی کے ڈھانچے کو جدید مالیاتی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موثر آڈٹ نگرانی سے کمپنیوں کی فراہم کردہ مالیاتی معلومات پر اعتماد بڑھے گا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو تقویت ملے گی۔






