وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اپنے وسائل سے ملک میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، فیصل آباد سے این ٹو سے منسلک ہونے والی سڑک کو 100 ارب روپے کی لاگت سے چھ لین موٹروے معیار پر لایا جا رہا ہے
این ایچ اے کی رواں سال آمدن میں 100 ارب روپے کا اضافہ ہوا، عبدالعلیم خان

مزید خبریں
لاہور۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اپنے وسائل سے ملک میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، فیصل آباد سے این ٹو سے منسلک ہونے والی سڑک کو 100 ارب روپے کی لاگت سے چھ لین موٹروے معیار پر لایا جا رہا ہے، ۔ وہ ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک سڑک پر 100 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ رواں سال بھی ایک سڑک پر مزید 100 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ادارے کی آمدن میں اضافے اور اخراجات میں کمی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈھائی سال قبل این ایچ اے کی آمدن 66 ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر 166 ارب روپے ہو گئی ہے، اس طرح رواں سال آمدن میں 100 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ادارے کے اخراجات بھی 64 ارب روپے سے کم کرکے 50 ارب روپے تک محدود کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی سڑکیں ایسے انداز میں تعمیر کرنا ضروری ہیں کہ وہ آمدن کا ذریعہ بھی بنیں اور این ایچ اے کو مالی طور پر مزید مستحکم کیا جا سکے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ لاہور سے راولپنڈی موٹروے کو 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ سکھر سے آگے سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے آئندہ ماہ سکھر سے حیدرآباد کی جانب موٹروے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، تاہم منصوبے کو صرف حیدرآباد تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے کراچی بندرگاہ تک آٹھ لین تک توسیع دینے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چلاس کے راستے چینی سرحد تک رابطہ قائم کرنے سے مختصر راستہ میسر آ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مزید دس سڑکوں کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔ لاہور سے اسلام آباد کے درمیان سفر کے فاصلے کو تقریبا 100 کلومیٹر کم کرنے کے لیے متبادل رابطہ سڑکوں پر کام کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعے کھاریاں، جہلم اور گوجرانوالہ کو منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو اگلے سال تک مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیالکوٹ موٹروے کو چار سے بڑھا کر چھ لین کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد مری ایکسپریس وے این ایچ اے کے اپنے وسائل سے تعمیر کی گئی ہے، جبکہ مری ایکسپریس وے کو مظفرآباد، آزاد کشمیر تک توسیع دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے رنگ روڈ سے پھول نگر تک سڑک کی خراب حالت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے مستقل وسائل اور بہتر منصوبہ بندی ضروری ہے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ایم 25 پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس منصوبے کو موٹروے معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو بہتر رابطہ فراہم کرنے اور وہاں پائی جانے والی محرومیوں کے خاتمے میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کو طویل عرصے تک قابل استعمال رکھنے کے لیے مقررہ حد سے زیادہ وزن لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ اضافی وزن کی وجہ سے وہ سڑکیں جو 20 سال تک استعمال کے لیے بنائی جاتی ہیں، صرف دو سال میں تباہ ہو جاتی ہیں۔ این ایچ اے کی آمدن میں اضافے اور سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے مثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے ہر اجلاس میں تاجروں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے مسائل اجاگر کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ ملک کی ترقی کے لیے کاروبار اور صنعت کا چلنا ضروری ہے، کیونکہ دنیا کا کوئی کاروبار 25 فیصد شرح سود پر نہیں چل سکتا۔ ملک اسی وقت آگے بڑھے گا جب کارخانے چلیں گے، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ این ایچ اے اسلام آباد میں متعلقہ فریقوں کو ایک میز پر بٹھا کر ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کرے گا۔ کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ موٹروے پولیس یا این ایچ اے نہیں بلکہ مقامی ادارے کرتے ہیں، تاہم وہ اس معاملے پر جہاں تک ممکن ہوا، ٹرانسپورٹرز کی آواز بنیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موٹرویز پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کی اجازت نہیں، اس حوالے سے انہیں متعدد سفارشات بھی موصول ہوتی ہیں، لیکن تیز رفتاری کے باعث بچوں سمیت قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی صورت تیز رفتاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گاڑی چلاتے اور جرمانہ ادا کرنے کے بعد بھی خلاف ورزی جاری رکھتے ہیں، تاہم تیز رفتاری پر گرفتاری کے احکامات کے بعد اس رجحان میں نمایاں بہتری آئی ہے۔








