ایگریکلچر کنیکشنز کانفرنس و ایکسپو کے چوتھے ایڈیشن کا لاہور میں آغاز

ایگریکلچر کنیکشنز کانفرنس و ایکسپو کے چوتھے ایڈیشن کا لاہور میں آغاز

لاہور۔1اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے زیر اہتمام اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے ایگریکلچر کنیکشنز2026 کانفرنس و ایکسپو کا چوتھا ایڈیشن جمعرات کو ایکسپو سینٹر لاہور میں شروع ہوگیا۔دو روزہ کانفرنس کا موضوع موسمیاتی تبدیلی کے دور میں غذائی تحفظ اور زرعی سرمایہ کاری ہے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، متعلقہ نگران اداروں، مالیاتی اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، زرعی کاروباری شعبے سے وابستہ شخصیات اور ترقی پسند کاشتکار شریک ہیں۔

کانفرنس میں زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سمیت غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے مختلف پہلووں پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ زراعت کو ایس آئی ایف سی کے ترجیحی سرمایہ کاری شعبوں میں شامل قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔عالمی بینک،انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے نمائندگان کی شرکت سے ہونے والی کانفرنس میں عالمی تجارتی صورتحال میں تبدیلیوں کے تناظر میں غذائی تحفظ، پاکستان اور مشرق وسطی کی زرعی منڈیوں، زرعی مداخل کی منڈیوں کے اثرات اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔

شرکا نے زرعی رسد کے نظام کو منظم اور موثر بنانے، زرعی مصنوعات کے معیار اور غذائی تحفظ کے عالمی معیارات بہتر بنانے، برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا۔اس موقع پر موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے فصلوں کی انشورنس اور کاربن فنانس کے مواقع کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں حکومتی اور نجی شعبے کے نمائندگان نے غذائی تحفظ مضبوط بنانے،زرعی منڈیوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، کاشتکاروں کو مالی سہولیات اور خطرات سے تحفظ تک بہتر رسائی فراہم کرنے اور زرعی مصنوعات کے معیار و عالمی تقاضوں سے ہم آہنگی کے ذریعے برآمدات میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین مربوط سہولت کاری کے ذریعے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں معاونت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، زرعی شعبے میں مشینی کاشت اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید خبریں