برسلز ۔22نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث بین الاقوامی بحری راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور بحیرۂ عرب ملک کی قومی سلامتی، رابطہ کاری، معاشی استحکام اور غذائی و توانائی کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، کراچی سے گوادر تک پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے خطّے کو …
بحری شعبے میں مضبوط تعاون، معلومات کے تبادلے، آگاہی اور بروقت انتباہی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

مزید خبریں
برسلز ۔22نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث بین الاقوامی بحری راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور بحیرۂ عرب ملک کی قومی سلامتی، رابطہ کاری، معاشی استحکام اور غذائی و توانائی کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، کراچی سے گوادر تک پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے خطّے کو عالمی تجارت سے جوڑنے والے اہم دروازے ہیں۔
ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے دوران بحری اہم تنصیبات، روابط اور ترقی سے متعلق اپنے بیان میں نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آج کے بحری خطرات کثیرالجہتی اور سرحدوں سے ماورا ہیں، جن میں بحری قزاقی، دہشت گردی، اسلحہ و منشیات کی سمگلنگ، بندرگاہی ڈھانچے کو سائبر حملوں کا خطرہ، سمندری آلودگی اور موسمیاتی تغیرات سے ساحلی علاقوں کو درپیش چیلنجز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحری شعبے میں مضبوط تعاون، معلومات کے تبادلے، آگاہی اور بروقت انتباہی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے ہے کہ باہمی اعتماد، شفافیت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے ایک محفوظ، پائیدار اور لچکدار بحری ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سمندری شعبے سے متعلق تین نکات پر زور دیا جن میں سمندروں کو تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے خطّے کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے تسلط پسندانہ یا استثنائی طریق کار سے گریز رابطہ کاری کو لچک کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ ایک خطے میں رکاوٹ پوری دنیا پر اثرانداز نہ ہو جبکہ بحری ترقی کو جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون سے جوڑنا شامل ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے مشترکہ بحری معلوماتی رابطہ مرکز کو سپارکو کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جہاز رانی کے نظام سے مزید مضبوط بنایا ہے اور ملک اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس شعبے میں مزید تعاون کا خواہاں ہے۔نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ تکنیکی تعاون، قواعد و ضوابط کے تبادلے اور اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کے لیے صلاحیت سازی کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وژن یہ ہے کہ سمندر امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے راستے بنے رہیں۔








