نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی (این ٹی یو) ٹیکنیکل ٹیکسٹائل سمیت جدید ریسرچ کی کمرشلائزیشن اور انڈسٹری کے مسئلے حل کر کے برآمدات بڑھانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے
برآمدات بڑھانےکیلئےسنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، ریکٹر این ٹی یو

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی (این ٹی یو) ٹیکنیکل ٹیکسٹائل سمیت جدید ریسرچ کی کمرشلائزیشن اور انڈسٹری کے مسئلے حل کر کے برآمدات بڑھانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر این ٹی یو کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راشد مسعود نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران صدر چیمبر عارف احسان ملک اور ان کی ٹیم سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ ویلیو ایڈیشن پر ہے مگر صنعتوں کو بھی این ٹی یو کے ذریعے اپنے مسئلے حل کرنے چاہیں۔ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 7 ملین کی سرمایہ کاری سے کوریا نے این ٹی یو میں ٹیکنیکل ٹیکسٹائل سنٹر قائم کیا۔ اس سے پہلے 3 ملین ڈالر سے Non-Woven کی ٹیکسٹائل کی ایک مشین حاصل کی گئی تھی جبکہ اب اس کی اپ گریڈیشن کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ این ٹی یو میں ٹیکسٹائل سیمپل ٹیسٹنگ کی جدید سہولیات بھی موجود ہیں جبکہ ان سہولتوں کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے مزید بہتر بنایا گیا ہے اور یہ سہولتیں آئندہ چند ماہ تک صنعتوں کو دستیاب ہوں گی۔پروفیسر ڈاکٹر راشد مسعود نے بتایا کہ سکل ڈویلپمنٹ سکول کے ذریعے مختلف قسم کے شارٹ کورسز کرائے جارہے ہیں جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ہنر مند افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کپاس کے علاوہ بائیو اور سنتھیٹک فائبر کی مقامی طور پر تیاری کیلئے بھی این ٹی یو ٹیکنیکل سہولتیں مہیا کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ پوسٹ گریجویشن کرنے والے طلبہ کو صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ طلبہ کے تحقیقی مقالوں میں ایسی بہت سی نئی ایجادات ہوتی ہیں جن کی کمرشلائزیشن ہو سکتی ہے۔ تاہم متعلقہ صنعتیں مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ان میں تبدیلیاں کروا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے ORICکا ادارہ بھی کام کر رہا ہے۔قبل ازیں چیمبر کے صدر عارف احسان ملک نے یونیورسٹی کے ریکٹر کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ پہلے ہی این ٹی یو سے رابطے میں ہیں تاہم دوسرے صنعتکاروں کو بھی اس حوالے سے آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج کی ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے این ٹی یو کے تعاون سے فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کے حوالے سے ملک کا پہلا سرکلر سٹی بنانے اور ٹیکنکل ٹیکسٹائل کے فروغ کیلئے کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ستیانہ میں 60 سے 70 یونٹ پہلے سے ہی کام کر رہے ہیں جبکہ یورپین یونین کی کمپلائنسز کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ صنعتی ویسٹ کو صفر کیا جائے۔ اپروفیسر ڈاکٹر راشد مسعود نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود فیصل آباد آ کے اس کو ٹیکسٹائل سرکلر سٹی declare کرنے کا اعلان کریں۔ انہوں نے ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کے فروغ کیلئے مجوزہ دس سالہ روڈمیپ کو سراہا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی اداروں کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس سیکٹر سے متعلقہ کلسٹر قائم ہو سکیں۔
پروفیسر ڈاکٹر راشد مسعود نے کہا کہ اِن کلسٹرز کی تیارکردہ مصنوعات کی اندرون ملک فراہمی کے ساتھ فاضل پیداوارکی برآمد کیلئے بھی آسانیاں پیدا کی جائیں جبکہ اِن یونٹوں کے قیام کیلئے آسان شرائط پر ایس ایم ای سیکٹر کو قرضے دینے کا بھی جامع پروگرام ترتیب دیا جائے۔







