بنگلہ دیش،عدالت نے سابق پولیس چیف اور ان کے دو ساتھیوں کو سزائے موت سنا دی

ڈھاکہ۔26جنوری (اے پی پی):بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے سابق پولیس چیف اور ان کے دو ساتھیوں کو 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنا دی،سابق پولیس چیف حبیب الرحمٰن سمیت تینوں افراد کے خلاف غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کے موجودہ ٹھکانے معلوم نہیں ہو سکے۔ اے ایف پی …

ڈھاکہ۔26جنوری (اے پی پی):بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے سابق پولیس چیف اور ان کے دو ساتھیوں کو 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنا دی،سابق پولیس چیف حبیب الرحمٰن سمیت تینوں افراد کے خلاف غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کے موجودہ ٹھکانے معلوم نہیں ہو سکے۔ اے ایف پی کے مطابق عدالتی فیصلہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد ملک میں یہ پہلے عام انتخابات ہوں گے۔اسی مقدمے میں مزید پانچ سابق پولیس افسران کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔یہ کیس 5 اگست 2024 کو ڈھاکہ میں 6 مظاہرین کے قتل پر درج کیا گیا ۔

جج غلام مرتضیٰ موجمدار نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پولیس فورسز نے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔عدالت کو بتایا گیا کہ حبیب الرحمٰن نے پولیس یونٹس کو پیغامات بھیج کر مظاہروں کو کچلنے کیلئے طاقت استعمال کرنے کے احکامات دیئے۔چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان پانچ دیگر مجرموں کیلئے زیادہ سخت سزاؤں کے خواہاں ہیں جنہیں قید کی سزائیں دی گئیں۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے قرار دیا کہ ان کے جرائم ثابت ہو چکے ہیں اور انہوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔