ڈھاکہ۔4اگست (اے پی پی):امداد فراہم کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا جس کے نتیجے میں سیکڑوں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں متاثرہ خاندانوں کے لیے شدید معاشی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بنگلہ دیش کو پیش آنے والی خسرہ کی سب سے خطرناک وبا ہے ۔ بنگلہ دیش کے محکمہ صحت …
بنگلہ دیش میں خسرے سے سینکڑوں بچے لقمہ اجل،متاثرہ خاندان معاشی تباہی کا شکار

مزید خبریں
ڈھاکہ۔4اگست (اے پی پی):امداد فراہم کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا جس کے نتیجے میں سیکڑوں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں متاثرہ خاندانوں کے لیے شدید معاشی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔
اردو نیوز کے مطابق یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بنگلہ دیش کو پیش آنے والی خسرہ کی سب سے خطرناک وبا ہے ۔ بنگلہ دیش کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے تحت 15 مارچ سے اب تک اس قابلِ علاج بیماری کی وجہ سے کم از کم 844 بچے جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد علاج کے لیے ہسپتالوں کا رخ کر چکے ہیں۔ریڈ کراس اور ہلالِ احمر کی بین الاقوامی فیڈریشن (آئی آر ایف سی) اور بنگلہ دیش ریڈ کراس سوسائٹی کے مطابق خسرہ سے متاثرہ ہر 10 میں سے 9 خاندان علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں۔ڈھاکہ میں آئی ایف آر سی کے سربراہ البرٹو بوکانیگرا کا کہنا ہے کہ خسرہ کی اس ہنگامی طبی صورت حال کے اثرات صرف ہسپتال کے دروازے پر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ متاثرہ خاندانوں کو اس کے بعد شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کی ایسی ہنگامی صورت حال کے دوران انسانی بنیاد پر امداد اور مضبوط سماجی تحفظ کا نظام دونوں ہی ناگزیر ہیں۔امدادی تنظیموں نے ان 2746 خاندانوں کے حالات کا جائزہ لیا جو 12 سرکاری طبی مراکز میں اپنے بچوں کے علاج کے لیے آئے،اگرچہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے لیکن دیگر متعلقہ اخراجات تیزی سے بڑھ جاتے ہیں۔سروے میں شامل 35 فیصد خاندانوں کو ادویات خریدنے کے لیے مالی امداد جبکہ 22 فیصد کو خوراک کے لیے مدد کی ضرورت تھی۔متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد غریب علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جو غیر رسمی یا دیہاڑی دار ملازمتوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی ماہانہ آمدن 48 سے 160 امریکی ڈالر (قریباً 13 ہزار سے 44 ہزار پاکستانی روپے)کے درمیان ہے۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے علاج اور اس سے جڑے دیگر امور پر اوسطاً 130 ڈالر سے زائد خرچ کیے۔سروے میں شامل ایک خاتون ہاجرہ خاتون نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں علاج تو مفت ہے لیکن دیگر اخراجات کا بوجھ ہمیں خود اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈھاکہ کے ہسپتال پہنچنے کے لیے ایمبولینس کا کرایہ ہی قریباً 200 ڈالر ادا کرنا پڑا ۔ علاوہ ازیں ہسپتالوں میں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کے لیے طویل عرصے تک موجود رہنے کی وجہ سے کئی والدین اور تیمارداروں کو اپنی ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔بنگلہ دیش ریڈ کراس سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل کبیر ایم اشرف عالم نے کہاتحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد خاندان نہ صرف طبی بحران بلکہ شدید مالی دباؤ کا بھی شکار ہیں۔خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو کھانسنے اور چھینکنے سے تیزی سے پھیلتی ہے اور ایک بار منتقل ہو جانے کے بعد اس کا کوئی خاص علاج میسر نہیں ہوتا۔ اس کی پیچیدگیوں میں دماغ کی سوجن اور سانس کے شدید مسائل شامل ہیں۔ یوں تو یہ بیماری کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے لیکن بچے اس کا سب سے آسان شکار بنتے ہیں۔سال 2024 میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج اور سیاسی بے چینی کے دوران اور اس کے بعد بچوں کی ویکسی نیشن کے عمل میں بڑا خلا پیدا ہوا جس کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد اس بیماری کے سامنے بغیر دفاع کے رہ گئی۔17 کروڑ کی آبادی والے اس ملک نے اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم شروع کی ، تاہم بچوں کے متاثر ہونے اور ہلاک ہونے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، محض گزشتہ روز بھی خسرہ سے متاثرچار بچے دم توڑ گئے۔








