بنگلہ دیش کا 15 رکنی ثقافتی وفد ثقافتی تبادلوں کے فروغ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے 4 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گیا

بنگلہ دیش کا 15 رکنی ثقافتی وفد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین دہائیوں کے وقفے کے بعد ثقافتی تبادلوں کے فروغ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے4روزہ دورے پراسلام آباد پہنچ گیا ہے ۔ترجمان وزارت قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے مطابق بنگلہ دیشی وفد کی قیادت حکومت بنگلہ دیش کی وزارت ثقافتی امور کے جوائنٹ سیکرٹری ایم ڈی میزان الرحمٰن کر رہے ہیں۔

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کا 15 رکنی ثقافتی وفد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین دہائیوں کے وقفے کے بعد ثقافتی تبادلوں کے فروغ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے4روزہ دورے پراسلام آباد پہنچ گیا ہے ۔ترجمان وزارت قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے مطابق بنگلہ دیشی وفد کی قیادت حکومت بنگلہ دیش کی وزارت ثقافتی امور کے جوائنٹ سیکرٹری ایم ڈی میزان الرحمٰن کر رہے ہیں۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔یہ دورہ حکومت پاکستان کے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی دعوت پر ترتیب دیا گیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینا، فنون لطیفہ کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

وفد اپنے چار روزہ قیام کے دوران 17 اور 18 اکتوبر کو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اور لوک ورثہ میں منعقد ہونے والی ثقافتی تقریبات اور فنکارانہ سرگرمیوں میں شرکت کرے گا۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش کے فنکاروں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کو اپنی روایات پیش کرنے، فنون کے شعبے میں تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں، فنکارانہ اشتراک اور ادارہ جاتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے فنکاروں اور ثقافتی حلقوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔یہ دورہ اس امر کا عکاس ہے کہ ثقافت قوموں کے درمیان قربت، باہمی احترام اور مفاہمت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تعاون کا یہ اقدام دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافتی روایات سے روشناس کرانے اور دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔