بڑھتی مہنگائی اور سڑکوں پر احتجاج کی بنیادی وجہ ایک ہے، عالمی عدم مساوات اور پھیلتی جنگوں کا خاتمہ ضروری ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔23اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ دنیا کو سب کے لیے محفوظ بنانے کے لیے بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا مقابلہ اور جنگوں کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ مہنگائی اور عوامی احتجاج کے پیچھے گہرے معاشی اور عالمی مسائل کارفرما ہیں۔شنہوا کے مطابق نیویارک میں مصر کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے …

اقوام متحدہ ۔23اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ دنیا کو سب کے لیے محفوظ بنانے کے لیے بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا مقابلہ اور جنگوں کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ مہنگائی اور عوامی احتجاج کے پیچھے گہرے معاشی اور عالمی مسائل کارفرما ہیں۔شنہوا کے مطابق نیویارک میں مصر کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اشیائے خورونوش، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افراد اور ممالک کے لیے شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔انتونیو گوتریش نے فرانس، اٹلی اور دیگر مقامات پر احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے، تاہم مظاہرین کے جائز تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جاری وسیع تر بحرانوں اور عوام کی جانب سے پرامن انداز میں ظاہر کیے جانے والے حقیقی مسائل کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ موجودہ دور میں تنازعات نہ صرف شدت اختیار کر رہے ہیں بلکہ ان کا دائرہ بھی وسیع ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس صورت حال کو جنگ کا ’’ایل نینو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح موسمیاتی مظہر ایل نینو ایک خطے میں پیدا ہو کر ہزاروں کلومیٹر دور موسم اور انسانی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے، اسی طرح جنگیں بھی ایک دوسرے کو ہوا دے رہی ہیں اور ان کے اثرات تیزی سے دور دراز علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔انہوں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تنازعات میں گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، ہوائی اڈوں، بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات سمیت شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنگوں کے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ توانائی کی منڈیوں، بحری نقل و حمل، سپلائی چین اور مالیاتی نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

انتونیو گوتریش نے کہا کہ یہ معاشی جھٹکے پہلے سے غیر مساوی دنیا میں مشکلات مزید بڑھا رہے ہیں، جہاں بعض افراد بڑھتی قیمتوں کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر کو خوراک اور گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ ممالک اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کم شرح سود پر قرض حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک قرضوں کی ادائیگی اور صحت، تعلیم و ترقی میں سرمایہ کاری کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگیں تمام معاشی ناہمواریوں کی وجہ نہیں، تاہم یہ ان میں اضافہ کرتی اور ان سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جس سے ایسے معاشی نظام کی بنیادی ناانصافی نمایاں ہوتی ہے جس میں سب سے کم وسائل رکھنے والے افراد کو سب سے زیادہ نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں تصادم کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے بجائے کشیدگی میں کمی اور سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یمن کے شہر تعز اور دیگر علاقوں میں کشیدگی بڑھنے اور سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثی حملوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق تشدد سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ، علاقائی کشیدگی میں شدت، نقل مکانی اور انسانی امداد کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل اور سیاسی مکالمے کی اپیل کی۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انتونیو گوتریش نے کہا کہ اسرائیل موسم سرما کی آمد سے قبل ضروری امداد کی فراہمی پر سخت پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت یافتہ جامع منصوبے پر عمل درآمد میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے روزانہ حملوں کا سامنا ہے، جبکہ صحافیوں اور سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے عطیہ دہندگان سے اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے لیے مالی معاونت بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو آئندہ چھ ماہ کے دوران غزہ اور مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کے لیے فوری طور پر 45 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ انہوں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا۔

انتونیو گوتریش نے کہا کہ مصر کے دورے کے دوران ان کا پیغام جنگوں کے پھیلاؤ کو روکنے، شہریوں کے تحفظ اور سفارت کاری و امن کے لیے سازگار سیاسی ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ تحفظ، وقار اور ایسی حکومتوں و بین الاقوامی اداروں کے خواہاں ہیں جو ان کی توقعات پر پورا اتریں۔انہوں نے زور دیا کہ معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے والی عدم مساوات کا خاتمہ اور ان تنازعات کو روکنا ضروری ہے جو انسانی مصائب میں اضافہ، قیمتوں میں تیزی، ترقیاتی وسائل میں کمی اور پہلے سے غیر مساوی دنیا میں مزید خلیج پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔