اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد گروہ مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں قتل عام کی انتہا کر دی،عالمی سطح پر بھارت نواز گروہ مکتی باہنی کے سفاک مظالم اور قتل عام کا الزام پاکستانی فوج پر لگا کر مکروہ سازش کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے۔1971ءکی جنگ …
بھارتی سازش اور مکتی باہنی کے خونریز کھیل کی کہانی، 1971 کے غازیوں کی زبانی، مکتی باہنی اور بھارتی دہشت گردوں کے ہاتھوں لاکھوں پاکستانی اور بنگالی شہید ہوئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد گروہ مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں قتل عام کی انتہا کر دی،عالمی سطح پر بھارت نواز گروہ مکتی باہنی کے سفاک مظالم اور قتل عام کا الزام پاکستانی فوج پر لگا کر مکروہ سازش کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے۔1971ءکی جنگ کے غازی پاک فوج کے کرنل ریٹائرڈظفر اقبال فرخ نے بھارت اور مکتی باہنی کے مظالم کی دلخراش داستان بیان کی۔
کرنل (ر) ظفر اقبال فرخ نے کہا کہ مشرقی پاکستان رائفلز فورس سرحدی علاقوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر تعینات 1500 جوانوں پر مشتمل تھی،رائفلز فورس میں 95 فیصد بنگالی، 4 فیصد بہاری اور صرف 1 فیصد مغربی پاکستانی شامل تھے،2 اور 3 مارچ 1971ءکی درمیانی شب مکتی باہنی نے چٹاگانگ میں پہاڑ تلی کے مقام پر سینکڑوں پاکستانیوں کا سفاک قتل عام کیا،
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پاکستانیوں کا قتل عام میں کوئی کردار نہیں تھا، جنگ بندی کے قریب بھارتی ایجنٹوں نے سازش کے تحت تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو قتل کر کے اجتماعی قبر بنا دی ۔انہوں نے کہاکہ کاش بہاریوں، بنگالیوں اور پاکستانیوں کی مسخ شدہ لاشیں بتاسکتیں کہ کس درندگی سے بھارتیوں نے ان کا قتل عام کیا، سب سے زیادہ ظلم بہاریوں نے برداشت کیا،
جنہیں بھارت نے منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ مکتی باہنی اور بھارتی افواج کے دہشتگردوں کے ہاتھوں دو سے ڈھائی لاکھ پاکستانی اور بنگالی شہید ہوئے،درحقیقت ہم مغربی پاکستان اور بنگالیوں سے اور وہ ہم سے بےحد محبت کے جذبات رکھتے ہیں،1971ءکی جنگ میں بھارت اور مکتی باہنی کے وحشیانہ مظالم تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر درج رہیں گے۔








