بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف 23اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

بھارت میں سول سوسائٹی، مزدور یونینوں اور طلبہ تنظیموں نے انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی کے خلاف 23اکتوبر کو ملک گیر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی ۔21اکتوبر (اے پی پی):بھارت میں سول سوسائٹی، مزدور یونینوں اور طلبہ تنظیموں نے انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی کے خلاف 23اکتوبر کو ملک گیر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر نامی مشترکہ پلیٹ فارم نے یہ احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ مظاہرین انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پلیٹ فارم میں طلبہ، نوجوانوں، اقلیتوں، قبائلی برادریوں، مزدور تنظیموں اور دانشوروں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کے رکن پی کرشنا پرساد کے مطابق 23اکتوبر کو بھارت کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں مارچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت ضروری نہیں۔ دہلی میں مارچ بنگلہ صاحب گردوارے سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک نکالا جائے گا۔ پلیٹ فارم نے پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

اداکار پرکاش راج، سینئر وکیل پرشانت بھوشن، کسان رہنما راکیش ٹکیت اور دیگر معروف شخصیات نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ منتظمین نے عوام سے جمہوریت کے تحفظ کیلئے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ پلیٹ فارم نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے الیکشن کمیشن کو حاصل قانونی استثنی ختم کرنے اور خصوصی نظرثانی کے تحت تیار کردہ انتخابی فہرستوں پر مزید انتخابات نہ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پلیٹ فارم نے ایسی فہرستوں کی بنیاد پر پہلے منعقد ہونے والے ریاستی انتخابات کالعدم قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا، منی پور، گجرات اور ہماچل پردیش میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ منتظمین کے مطابق احتجاج کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔