بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے31دسمبر 2029تک بھارت کو منشیات سے پاک کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ، کالے دھن اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی موجودگی اس اعلان پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے
بھارت میں منشیات مافیا، کالے دھن اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کاراج جاری

مزید خبریں
نئی دہلی۔23اکتوبر (اے پی پی):بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے31دسمبر 2029تک بھارت کو منشیات سے پاک کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ، کالے دھن اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی موجودگی اس اعلان پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے والی مودی حکومت اپنے اقتدار کومزید طول دینے کیلئے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے ۔ ناقدین کے مطابق امیت شاہ کابھارت کو 2029تک منشیات سے پاک کرنے کا اعلان محض سیاسی ڈرامہ ہے۔
گزشتہ 14 سال سے منشیات کے کاروبار کو پال پوس کر پروان چڑھانے کے بعد اب امیت شاہ کو اسے ختم کرنے کا خیال آیا ہے۔در حقیقت بھارتی حکومت منشیات کے اس کاروبار کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی کیونکہ منشیات اور ان سے وابستہ غیر قانونی کاروبار پورے بھارت میں گہری جڑیں پکڑ چکے ہیں۔امیت شاہ نے ایک طویل تاریخ مقرر کی ہے، جبکہ منشیات مافیا، کالے دھن کے نیٹ ورکس اور منشیات کی کھلی منڈیاں مودی حکومت کے دورمیں پوری آزادی سے کام کر رہی ہیں۔ بھارتی بالی ووڈ منشیات سے حاصل ہونے والے کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔بھارتی پنجاب بدستور ملک میں افیون کا مرکز ہے۔ امرتسر، ترن تارن، فیروزپور اور گورداسپور جیسے اضلاع ہیروئن اور افیون کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کو جدوجہدآزادی سے دور کرنے کیلئے سرکاری سرپرستی میں ہیروئن اور چرس کوپھیلایاجارہاہے۔ ناقدین کے مطابق مودی حکومت کی ترجیحات سیاسی کنٹرول سے متاثر ہیں۔
منشیات کے بحران سے نمٹنے کے بجائے اسے کشمیریوں کے خلاف بیانیے میں استعمال کیا جارہا ہے۔بھارت میں مودی حکومت صرف ان علاقوں کو منشیات کی سمگلنگ کے راستوں میں تبدیل کر رہی ہے جہاں آزادی کی تحریکیں جاری ہیں۔ مسلمانوں اور بی جے پی مخالف افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ منشیات کے اصل نیٹ ورکس اور ان کے مالیاتی ڈھانچے کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ناقدین کے مطابق منشیات کے خلاف جنگ کے نام پر بار بار حکومتی اعلانات کیے گئے، لیکن ان کے بنیادی مالیاتی ڈھانچے کو ختم کرنے میں ہمیشہ ناکامی برقرار ہے۔منی پور اور شمال مشرقی بھارت کے بعض راستے، میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث، منشیات کی سمگلنگ کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مورہ اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور دیگر ممنوعہ مادوں کی نقل و حرکت پر حکام تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔راجستھان، گجرات، مہاراشٹر اور گوا سمیت ریاستوں میں بھی منشیات کی سمگلنگ کے بڑے نیٹ ورکس موجود ہیں۔ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں بھنگ کی کاشت ہورہی ہے۔
دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے بڑے شہر منشیات کی تقسیم اور استعمال کامرکز ہیں۔ وزارتِ سماجی انصاف و اختیارات، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے قومی سروے طویل عرصے سے افیون، بھنگ اور نشہ آور ادویات کے بڑے پیمانے پر مسلسل استعمال کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ پنجاب، شمال مشرقی بھارت اور شمالی بھارت کے بعض علاقے اس حوالے سے نمایاں ہیں۔ بھارت منشیات فروشی کے بین الاقوامی راستے گولڈن کریسنٹ اور گولڈن ٹرائینگل کے درمیان واقع ہے۔ ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین بھارت کے راستے منتقل ہوتی ہیں، یہاں تیار یا پراسیس کی جاتی ہیں ۔ بھارت، گولڈن کریسنٹ اور گولڈن ٹرائینگل کے درمیان واقع ہونے کے باعث، بین الاقوامی منشیات کی ترسیل کابھی مرکز بن چکاہے ۔ممبئی، مندرا، چنئی، کوچی اور کولکتہ کی بندرگاہیں، جبکہ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد کے ہوائی اڈے، تجارتی نقل و حمل کے اہم مراکز ہیں۔
حکام نے ان راستوں پر منشیات کی متعدد بڑی کھیپیں ضبط کی ہیں۔19ستمبر 2021 کو حکام نے مندرا بندرگاہ پر 2ہزار988کلوگرام ہیروئن ضبط کی۔ یہ بھارت میں منشیات کی بڑی ضبطیوں میں شمار ہوتی ہے۔بین الاقوامی اداروں نے بھی بھارت سے منسلک منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم اور بین الاقوامی ادارہ انسدادِ منشیات کی رپورٹیں عالمی منشیات کی منڈیوں، سمگلنگ اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خطرات کو اجاگر کرتی ہیں۔امریکی حکام نے جولائی 2026 میں آپریشن ہارڈ بال کے تحت بھارت سے منسلک منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیاتھا۔
اس کارروائی میں گینگٹسرلارنس بشنوئی، جگو بھگوان پوریہ اور رویندر ڈھنڈا سے منسلک گروہوں کے خلاف اقدامات شامل تھے۔امیت شاہ نے سرحدی نگرانی، مالیاتی تحقیقات، منشیات کی طلب میں کمی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے کردار پر زور دیا ہے۔ تاہم، ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ اقدامات ماضی کے وعدوں سے کس طرح مختلف ہوں گے۔ان کے مطابق، منشیات کے خلاف موثر حکمتِ عملی کے لیے صرف سیاسی اعلانات کافی نہیں۔ مالیاتی نیٹ ورکس، منظم جرائم، غیر قانونی ترسیل اور منشیات کی طلب پر مسلسل کارروائی ضروری ہے۔2029 کے اختتام کی تاریخ مقرر کرنا بذاتِ خود کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگر بنیادی نیٹ ورکس بدستور سرگرم رہے، تو نئے اعلانات بھی بحران ختم نہیں کر سکیں گے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ بھارتی حکومت منشیات کی سمگلنگ اور اس سے حاصل ہونے والی غیر قانونی دولت کے خلاف کتنی شفاف، مسلسل اور موثر کارروائی کرتی ہے۔








