بھارت میں واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور دیگر ایپس کے لیے سخت سائبر قوانین نافذ

نئی دہلی۔1دسمبر (اے پی پی):بھارتی حکومت نے ڈیجیٹل نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لئے وٹس ایپ،ٹیلیگرام، سگنل،سنیپ چیٹ،شیئرچیٹ ، جیوچیٹ اورجوش سمیت پیغام رسانی کے بڑے پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ ان تمام صارفین کی رسائی روک دیں جن کے پاس اپنی ڈیوائس سے منسلک ایک فعال سم کارڈ نہ ہو۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ ہدایت ٹیلی کمیونیکیشن سائبر سکیورٹی ترمیمی رولز 2025کے تحت جاری …

نئی دہلی۔1دسمبر (اے پی پی):بھارتی حکومت نے ڈیجیٹل نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لئے وٹس ایپ،ٹیلیگرام، سگنل،سنیپ چیٹ،شیئرچیٹ ، جیوچیٹ اورجوش سمیت پیغام رسانی کے بڑے پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ ان تمام صارفین کی رسائی روک دیں جن کے پاس اپنی ڈیوائس سے منسلک ایک فعال سم کارڈ نہ ہو۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ ہدایت ٹیلی کمیونیکیشن سائبر سکیورٹی ترمیمی رولز 2025کے تحت جاری کی گئی ہے جس میں پہلی بار ایپ پر مبنی کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کو ٹیلی مواصلات کے ضابطے میں لایا گیا ہے۔

محکمہ ٹیلی مواصلات نے ان سروسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر صارف کی سم ایپ سے مسلسل منسلک رہے۔ویب صارفین کے لیے مودی حکومت نے ہر چھ گھنٹے میں لازمی آٹو لاگ آئوٹ کا ایک اور سخت قانون متعارف کرایا ہے جس کے بعد QR کے ذریعے صارف کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔اس اقدام کو ناقدین گمنام یا محفوظ ڈیجیٹل مواصلات کو مزید محدود کرنے کی کوشش قراردے رہے ہیں۔سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے اصول سے مجرموں کو روکنے میں بہت کم مدد ملے گی جو جعلی یا ادھار آئی ڈی کے ذریعے آسانی سے سم کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردارکیا کہ اس اقدام سے ریاستی نگرانی مزید سخت ہوگی، صارف کا حق رازداری پامال ہوگا اور ڈیجیٹل مواصلات پر حکومتی کنٹرول بڑھ جائے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جہاں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے مواصلاتی کنٹرول کو طویل عرصے سے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے،محفوظ چینلز کو محدود کرنے، آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور معلوماتی نظام کو سخت کرنے کی بھارت کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے ۔

مزید خبریں