بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور گندم سیزن کےلیے کسانوں کی تیاریاں

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور گندم سیزن کےلیے کسانوں کی تیاریاں

پشاور۔ 03 اکتوبر (اے پی پی):دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع خیرآباد گاؤں کے کھیتوں پر سورج کی پہلی کرنیں پھیلتے ہی 58 سالہ کسان ساجد خٹک گندم کی بوائی کے آنے والے سیزن کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کدال ہاتھ میں تھامے وہ تقریباً دو کلومیٹر طویل کھال سے مٹی اور گاد نکالنے میں دوسرے کسانوں کے ساتھ مصروف ہے تاکہ خیبر پختونخوا میں گندم کی بوائی کا سیزن شروع ہوتے ہی پانی کھیتوں تک پہنچ سکے۔ ساجد خٹک کے لیے یہ محض موسمی معمول نہیں بلکہ ان آبپاشی چینلز کی صفائی کی ایک اہم کوشش ہے جن پر اس کے خاندان کا روزگار بڑی حد تک منحصر ہے۔ وہ ہر صبح سائیکل پر پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اپنے کھیتوں میں پہنچتا ہے، زمین کی نمی کا جائزہ لیتا ہے اور دیگر کسانوں کے ساتھ مل کر آبپاشی کے کھالوں کی صفائی میں ہاتھ بٹاتا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث پانی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

حالیہ بارشوں نے زمین کو نم کر دیا ہے جس سے آنے والے گندم سیزن کے لیے امید پیدا ہوئی ہے تاہم کسان جانتے ہیں کہ صرف بارشیں زیادہ عرصے تک ان کی فصلوں کی ضروریات پوری نہیں کرسکتیں۔ ساجد کھال کی صفائی سے کچھ دیر کے لیے رک کر خاموشی سے کہتا ہے کہ ہم دریائے سندھ کے پانی سے جیتے ہیں۔ اگر پانی رک گیا تو سب کچھ رک جائے گا۔ دریائے سندھ کے نظام کے ساتھ آباد زراعت سے منسلک لوگ نسلوں سے اس کے پانی پر انحصار کرتے ہوئے گندم، چاول، سبزیاں اور باغات اگاتی اور مویشی پالنے سمیت دیگر دیہی معاشی سرگرمیاں جاری رکھتی آئی ہیں۔ تاہم گندم کی بوائی کی معمول کی تیاریوں کے پس منظر میں سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد پانی کے بہاؤ کے مستقبل کے حوالے سے غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

1960 کا سندھ طاس معاہدہ، جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی تھی، دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کا انتظام کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان جبکہ مشرقی دریاؤں، یعنی راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کے لیے مختص کیا گیا۔ تاہم پاکستان کے ان لاکھوں کسانوں کےلیے جو سفارتی کانفرنس رومز اور بین الاقوامی عدالتوں سے دور زمینوں پر محنت کرتے ہیں، معاہدے کی تکنیکی پیچیدگیاں بالآخر ایک سادہ سوال پر آکر رک جاتی ہیں کہ کیا ان کے کھیتوں تک مطلوبہ مقدار میں پانی پہنچے گا؟ ساجد کا کہنا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث دریا میں پانی کم ہوا تو ہماری گندم کی پیداوار بھی کم ہوجائے گی اور جب گندم کی پیداوار کم ہوگی تو پورا خاندان متاثر ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں یہ تشویش خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں زرعی ماہرین کے مطابق گندم کی پیداوار صوبے کی مجموعی ضروریات سے کم ہے۔ جامعہ پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک نے بتایا کہ صوبے میں سالانہ تقریباً 12 سے 15 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جبکہ کھپت کی ضرورت تقریباً 50 لاکھ ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث پہلے ہی موجود پیداواری خلا، موسمیاتی تبدیلی، معیاری بیج تک محدود رسائی اور زمینوں کی تقسیم جیسے مسائل نے کسانوں پر دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی نمایاں رکاوٹ سے خیبر پختونخوا میں غذائی تحفظ کے مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔

کسانوں کے لیے پانی کی کمی کے اثرات صرف گندم اور چاول کی فصلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی سے گندم، چاول، سبزیوں، باغات اور مویشیوں کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور شہد کی پیداوار سے وابستہ دیہی روزگار بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ جامعہ پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عدنان سرور خان نے پانی کو انسانی بقا کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام صرف زراعت ہی نہیں بلکہ توانائی کے بڑے منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کو بھی سہارا دیتا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی جانب سے خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات پاکستان میں لاکھوں افراد کےلیے بھوک اور غذائی قلت کے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیلا اور منگلا ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر اور پن بجلی کے منصوبے آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کے لیے دریائی پانی کے بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پانی کی دستیابی میں طویل المدتی کمی کے اثرات زراعت، ماہی گیری اور توانائی کی پیداوار سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور بین الاقوامی قانون کے ماہر آصف خان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے لیے بدستور پابند ہے اور اس پر عملدرآمد سے متعلق تنازعات کو معاہدے میں فراہم کردہ طریقہ کار اور بین الاقوامی قانون کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کی عالمی عدالت نے حال ہی میں معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت اور اس کے تحت اپنے دائرہ اختیار کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار ہے اور بھارت کا مؤقف ثالثی کی عالمی عدالت نے مسترد کردیا ہے۔

ساجد جیسے کسانوں کے لیے سندھ طاس معاہدے کا تسلسل لاکھوں انسانوں، مویشیوں اور آبی وسائل کے غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ساجد کی دنیا اس کے قدموں تلے موجود مٹی سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ اپنے کھیت کے کنارے کھڑے ہوکر وہ نم مٹی کی ایک مٹھی اٹھاتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ اپنی انگلیوں سے پھسلنے دیتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ابھی گندم کی فصل بوئی نہیں گئی لیکن اس کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ صاف کیا گیا آبپاشی کا کھال کھیتوں کی جانب پھیلا ہوا ہے اور اس پانی کے انتظار میں ہے جو یہ طے کرے گا کہ مٹی میں ڈالے جانے والے بیج فصل کی شکل اختیار کریں گے یا نہیں۔ ساجد دریائے سندھ کی جانب دیکھتے ہوئے جانتا ہے کہ یہی زمین ہمیں خوراک دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ زندہ رہنے کے لیے اسے مسلسل پانی چاہیے۔ جیسے جیسے خیبر پختونخوا میں گندم کا سیزن قریب آرہا ہے، یہ سادہ سی حقیقت پورے سندھ طاس سے وابستہ کسانوں کےلیے گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جہاں پانی محض سیاسی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

مزید خبریں