پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی خلا کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کا معاملہ اب محض نظریاتی بحث نہیں رہا بلکہ ہتھیاروں کی عملی تنصیب کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام کے لیے قانونی طور پر پابند معاہدہ (PAROS) پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ بات پاکستانی مندوب ہشام احمد نے …
بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام کے لیے قانونی طور پر پابند معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے،پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی خلا کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کا معاملہ اب محض نظریاتی بحث نہیں رہا بلکہ ہتھیاروں کی عملی تنصیب کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام کے لیے قانونی طور پر پابند معاہدہ (PAROS) پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ بات پاکستانی مندوب ہشام احمد نے تخفیفِ اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی کے موضوعاتی مباحثے سے خطاب میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسے جامع طریقہ کار پر عمل درآمد کرنا چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے بیرونی خلا کو تنازعات سے پاک رکھنے میں مدد دے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی یا تعیناتی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ میزائل دفاعی نظام کو خلا پر مبنی نظاموں کے ساتھ مربوط کرنا عالمی تزویراتی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح کے نظاموں کی تعیناتی سے جوابی اقدامات شروع ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں خلا میں ہتھیاروں کی ایک ناقابلِ برداشت دوڑ کے ذریعے بین الاقوامی سلامتی غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ بیرونی خلا کو ہتھیاروں سے لیس ہونے سے روکنے کا موقع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم حالیہ اعلانات نے اس موقع کو محدود کر دیا ہے اور اسے برقرار رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے اسی لیے عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے چاہییں، اس سے پہلے کہ خلا میں ہتھیاروں کی تنصیب ایک ایسی حقیقت بن جائے جسے تبدیل کرنا ممکن نہ رہے۔ اس تناظر میں پاکستانی مندوب نے خلا کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی خاطر باضابطہ بین الاقوامی نظام قائم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ محض غیر پابند رہنما اصول اب عالمی مشترکہ مفاد کے تحفظ کے لیے کافی نہیں رہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ شفافیت اور رضاکارانہ رہنما اصول جن پر کھلے عام ورکنگ گروپ (OEWG) میں بات چیت ہو رہی ہے، اہم ابتدائی اقدامات ضرور ہیں لیکن یہ کسی باقاعدہ معاہدے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام سے متعلق مجوزہ قانونی طور پر پابند معاہدے (PAROS) کے لیے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ٹھوس تجاویز کا بھی اعادہ کیا، جن میں اس معاہدے کے تحت بنیادی ذمہ داریوں کا تعین شامل ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام کے تمام پہلوئوں پر قائم کھلا ورکنگ گروپ اختلافات کو کم کرنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جہاں مفید بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہوئے قانونی طور پر پابند اور غیر پابند دونوں طرح کے اقدامات کی بنیاد رکھنی چاہیے۔






