بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی مخصوص پروٹوکول کے بغیرجوہری تنصیبات کا دورہ نہیں کر سکتی،ایران

تہران۔16دسمبر (اے پی پی):ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی ان مقامات کے دورے کا مطالبہ نہیں کر سکتی جو اسرائیل کے ساتھ جون کی جنگ کے دوران حملے کا نشانہ بنے تھے۔ العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کا دباؤ ان کے ملک پر اثر انداز نہیں ہوتا ، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر بین …

تہران۔16دسمبر (اے پی پی):ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی ان مقامات کے دورے کا مطالبہ نہیں کر سکتی جو اسرائیل کے ساتھ جون کی جنگ کے دوران حملے کا نشانہ بنے تھے۔ العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کا دباؤ ان کے ملک پر اثر انداز نہیں ہوتا ، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ایجنسی کے پاس حملے کا نشانہ بننے والے مقامات کے دورہ کے بارے میں کوئی پروٹوکول ہے تو اسے جائزہ لینے کے لئے ہمیں پیش کرنا چاہیے۔ایرانی جوہری توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے تصدیق کی ہے کہ جوہری تنصیبات کا فی الحال کوئی دورہ نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ عرصے کے دوران کیے گئےدورے ، بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی معطلی کے قانون کی بنیاد پر، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری سے کئے گئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ جن تمام مقامات کادورہ کیا گیا تھا وہ صنعتی سرگرمیوں سے متعلق تھے جن پر کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ترجمان نے کہا کہ بمباری کا نشانہ بننے والی تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینے میں تیزی لانے کے لئےدباؤ ہے لیکن ملک کی سلامتی اور جوہری تنصیبات کے تقاضے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایسے فیصلے ہوں جو قانون پر مبنی ہوں اور جو تنصیبات کو کسی بھی خطرے سے مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔

بین الاقوامی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے نومبر میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے مکمل اور فوری تعاون کرنے اور ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ہتھیار بنانے کی حد کے قریب کی سطح تک افزودہ شدہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے اور جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون معطل کر دیا تھا اور اس پر الزامعائد کیاتھا کہ وہ اس کی تنصیبات کے بارے میں معلومات اسرائیلی فریق کو لیک کرنے میں ملوث ہے اور ایجنسی نے اسرائیلی اور امریکی حملے کی مذمت نہیں کی۔

یہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ جون میں کی گئی 12 روزہ جنگ کے بعد ہوا تھا۔ یہ جنگ اس وقت ہوئی جب امریکا اور ایران نے 2025 میں عمان کی سلطنت کی ثالثی میں جوہری مذاکرات کے 5 دور منعقد کیے تھے۔ یہ ادورا کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے۔ ایرانی وفد چھٹے دور کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر حملہ کردیا اور امریکا بھی اس میں شامل ہو گیا تھا۔