بیگم نصرت بھٹو بہادر سیاسی رہنما، آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور ایک شفیق ماں تھیں ،صدر مملکت آصف علی زرداری کا بیگم نصرت بھٹو کی برسی پر پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو ایک بہادر اور ہمدرد سیاسی رہنما، آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے زندگی کے انتہائی گہرے ذاتی صدمات برداشت کیے تاہم اپنے اصولوں اور اقدار پر ثابت قدم رہیں

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو ایک بہادر اور ہمدرد سیاسی رہنما، آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے زندگی کے انتہائی گہرے ذاتی صدمات برداشت کیے تاہم اپنے اصولوں اور اقدار پر ثابت قدم رہیں۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق بیگم نصرت بھٹو کی 15 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ میرے لئے بیگم نصرت بھٹو ایک عظیم سیاسی رہنما سے بڑھ کر نہایت شفیق ماں تھیں جنہوں نے تاریخ کے کچھ تاریک ترین ایام میں اپنے خاندان کو متحد رکھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی محبت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنے پیارے بیٹوں شاہنواز اور میر مرتضیٰ کو کھو دیا لیکن گہرے رنج و غم کے باوجود نہ اپنی عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی پاکستان کے عوام سے اپنی وابستگی ترک کی، ان کا دکھ ذاتی تھا مگر ان کی بہادری پاکستان کے عوام کے لیے تھی۔پاکستان کی مائوں سے مخاطب ہوتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ہر ماں اپنی اولاد کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے خاموشی سے اٹھائے جانے والے بوجھ کو سمجھتی ہے۔

بیگم نصرت بھٹو کی زندگی ہمیں ماں کے دل کی غیر معمولی طاقت اور اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کس طرح محبت گہرے سے گہرے صدمے کو بھی برداشت کر سکتی ہے۔صدر مملکت نے پاکستان کی نوجوان لڑکیوں جو کل کی مائیں اور قائدین ہیں، کو بھی خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر لڑکی کو بیگم نصرت بھٹو کی جدوجہد اور زندگی کی کہانی سے آگاہ ہونا چاہیے، انہوں نے اس وقت بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جب طاقتور قوتیں انہیں خاموش کرانا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے پُریقین نظریات سے دستبردار ہونے سے انکار کیا، ان کی صاحبزادی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اسی ورثے کو آگے بڑھایا اور اپنے وطن سمیت مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو کی زندگی پاکستان کی ہر بیٹی کے لیے ایک دائمی پیغام رکھتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کبھی کم نہ سمجھے، تعلیم حاصل کرے، آزادانہ سوچ اپنائے، اپنی عزت و وقار کے لیے آواز بلند کرے اور کبھی کسی خوف کو اپنے خوابوں کی راہ میں حائل نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان لڑکیوں کا مستقبل ان کا اپنا ہے اور انہیں اپنے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مائیں نسلوں کی تشکیل کرتی ہیں جبکہ تعلیم یافتہ اور بااختیار بیٹیاں اقوام کی تقدیر سنوارتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسا پاکستان تعمیر کیا جائے جہاں ہر خاتون کا احترام ہو، اسے مساوی حقوق حاصل ہوں اور ہر لڑکی کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے مواقع میسر آئیں۔بیگم نصرت بھٹو کو ذاتی طور پر یاد کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ان کی کمی آج بھی خاندان میں شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ سال اور دہائیاں گزر سکتی ہیں لیکن محبت، احترام اور خوبصورت یادیں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں، ہم انہیں صرف ان صدمات کی وجہ سے یاد نہیں کرتے جو انہوں نے برداشت کیے بلکہ ایک غیر معمولی اور بلند پایہ خاتون کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں جو وہ درحقیقت تھیں۔صدر مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بیگم نصرت بھٹو کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی روح کو ابدی سکون نصیب کرے۔صدر مملکت نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ اللہ کرے ہر ماں کو ان کی مثال سے حوصلہ ملے اور ہر بیٹی کو اپنی زندگی کی کہانی خود تحریر کرنےکی ہمت نصیب ہو۔

 

مزید خبریں