تاجروں کا اسلام آباد میں پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):تاجروں نے اسلام آباد انتظامیہ سے پلاسٹک کی بوتلوں پر پاپندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے، ری سائیکلنگ کےشعبے کو نقصان پہنچنے اور ہزاروں افراد کےروزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔تاجروں نے کہا کہ پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی کے بعد اب سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف مہم کا …

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):تاجروں نے اسلام آباد انتظامیہ سے پلاسٹک کی بوتلوں پر پاپندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے، ری سائیکلنگ کےشعبے کو نقصان پہنچنے اور ہزاروں افراد کےروزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔تاجروں نے کہا کہ پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی کے بعد اب سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف مہم کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے پولی ایتھلین ٹیرفتھالیٹ (پی ای ٹی) بوتلوں میں پیک مصنوعات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ پابندی پر عملدرآمد کے لئے دکانیں سیل کرنے سمیت کارروائیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ای ٹی بوتلوں پر مکمل پابندی سےکاروباری اخراجات میں اضافہ اور بوتلوں کو جمع کرنے، چھانٹنے اور ری سائیکل کرنے کا موجودہ نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابلِ ری سائیکل پیکنگ پر پابندی عائد کرنے کے بجائےپلاسٹک کے کچرے کو مؤثر انداز میں جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ پی ای ٹی بوتلیں مشروبات اور دیگر مصنوعات کی پیکنگ کے لئے بڑے پیمانے پراستعمال ہوتی ہیں جبکہ ان کی ری سائیکلنگ سے وابستہ کاروبار اور کارکنوں کا روزگار بھی اسی نظام سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی جگہ شیشے یاایلومینیم کی پیکنگ متعارف کرانے سے لازماً ماحولیاتی فوائد حاصل نہیں ہوں گےکیونکہ اس کے اثرات کا انحصار تیاری، نقل و حمل، کچرا جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کے طریقوں پر بھی ہوتا ہے۔کاروباری حلقوں نے تجویز دی کہ پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کے لئے کچرے کو علیحدہ جمع کرنے، اسے اٹھانے کے نظام کو بہتر بنانے، ری سائیکلنگ کی سہولتوں میں سرمایہ کاری اور مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے تعاون سے استعمال شدہ پیکنگ واپس جمع کرنے کے پروگرام شروع کئے جائیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ پابندیاں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سنگل یوزپلاسٹکس (ممانعت) ریگولیشنز 2023 کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی پیکنگ کے دوبارہ استعمال، کچرا جمع کرنے کے نظام میں بہتری اور مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے استعمال شدہ پیکنگ کی واپسی اور تلفی کی ذمہ داری پر زور دیا جاتا ہے۔

تاجروں نے اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی واپس لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازن پالیسی کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں اور ری سائیکلنگ کے شعبے کو بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں