تاجر اور درآمد کنندگان پری ارائیول گڈز ڈیکلریشن کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ، صدر لاہور چیمبر
تاجر اور درآمد کنندگان پری ارائیول گڈز ڈیکلریشن کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ، صدر لاہور چیمبر

مزید خبریں
لاہور۔18اکتوبر (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر نے چیف کلیکٹر اپریزمنٹ واجد علی سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر تاجروں اور درآمد کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ کسٹمز کلیئرنس تیز کرنے، تاخیر کم کرنے، کیش فلو کو بہتر بنانے اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے پری ارائیول گڈز ڈیکلریشن کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چوہدری خادم حسین اور کلکٹر اپریزیمنٹ بیلم رمضان نے بھی اظہار خیال کیا۔ لاہور چیمبر کے سینئر ممبر محمد امجد چوہدری، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران محمد اعجاز غوری سمیت دیگر بھیموجود تھے۔چیف کلکٹر اپریزیمنٹ ساو تھ واجد علی نے کہا کہ کسٹمز نے آٹومیشن اور تجارتی سہولتوں کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
آئندہ 3 سال کے دوران ٹیرف اصلاحات کے نتیجے میں خام مال پر ڈیوٹیز میں مزید کمی متوقع ہے۔ چیف کلکٹر نے بتایا کہ جولائی 2025 میں متعارف کرائی گئی پری ارائیول کلیئرنس سہولت کے تحت درآمد کنندگان اور کسٹمز ایجنٹس امپورٹ آئی جی ایم فائل ہونے کے بعد جہاز کی برتھنگ کا انتظار کیے بغیر گڈز ڈیکلریشن فائل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریبا 10 فیصد درآمدی کلیئرنس اس سہولت کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ کسٹمز کا ہدف اس شرح کو نمایاں طور پر بڑھا کر50 فیصد تک لے جانا ہے۔ انہوں نے لاہور چیمبر، کسٹمز ایجنٹس اور درآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ کاروباری برادری میں اس سہولت کے بارے میں آگاہی پیدا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ تاجر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔کسٹمز کی جانب سے مقرر کردہ اور درآمد کنندگان کی جانب سے ظاہر کردہ مالیت میں فرق کے حوالے سے بھی انہوں نے تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے بڑے ٹرمینلز پر رش کے باعث اسکیننگ اور فزیکل ایگزامینیشن کے شیڈول متاثر ہو رہے ہیں۔ ٹرمینلز پر جگہ کی محدود دستیابی کارگو کی نقل و حرکت میں تاخیر اور معائنے کے انتظامات کو مشکل بنا سکتی ہے۔لاہور چیمبر کے صدر نے کسٹمز کی جانب سے گزشتہ8 سے10 سال کے دوران آٹومیشن کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کو روزمرہ کاروباری معاملات میں درپیش مشکلات دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر نے پہلے ہی روز شکایات مرکز قائم کیا اور اسے11 اقتصادی وزارتوں کے ڈیش بورڈ سے منسلک کیا ۔ انہوں نے تجویز دی کہ لاہور کے کسٹمز کلکٹریٹس اور لاہور چیمبر کے شکایات مرکز کے درمیان مضبوط روابط قائم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کسٹمز حکام پر زور دیا کہ ایف آئی آر درج کرنے یا نفاذِ قانون کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔
انہوں نے سیلز ٹیکس اور ایف آئی آر سے متعلق معاملات پر مشاورت اور متعلقہ کمیٹیوں میں لاہور چیمبر کی قیادت کو شامل کرنے کے حوالے سے کسٹمز حکام کے مثبت ردعمل کو بھی سراہا اور ایک فوکل پرسن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے دورہ لاہور چیمبر کے دوران لاہور چیمبر نے تین صوبائی قوانین میں ترامیم پیش کیں جن میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ، پنجاب فوڈ اتھارٹی سے متعلق قانون سازی اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی شامل ہیں۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے پری ارائیول کلیئرنس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے آئی فارم کی شرط اور بینکوں کے ذریعے متعلقہ دستاویزات کے حصول یا پراسیسنگ میں درآمد کنندگان کو پیش آنے والی مشکلات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ کسٹمز اور بینکنگ سیکٹر باہمی تعاون سے اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ دستاویزی تقاضے پری ارائیول کلیئرنس کے فوائد کو محدود نہ کریں۔
انہوں نے متعلقہ طریقہ کار میں تبدیلیوں کے بعد کسٹمز کلیئرنس کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ ریونیو کے لاہور سے منتقل ہونے کے خدشات بھی اٹھائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لاہور میں بعض منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں اور شہر میں کسٹمز آپریشنز کے لیے مقررہ ریونیو اہداف کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ اس امکان کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ بعض درآمد کنندگان نے اپنی کلیئرنس کی سرگرمیاں کراچی منتقل کر دی ہیں۔ انہوں نے کاروباری برادری، کلیئرنگ ایجنٹس اور کسٹمز حکام پر زور دیا کہ وہ لاہور کے معاشی مفادات کے تحفظ اور متعلقہ فورمز پر شہر کی مو ثر نمائندگی یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔لاہور چیمبر کے نائب صدر چوہدری خادم حسین نے کہا کہ درآمد کنندگان کو پری ارائیول کلیئرنس، دستاویزی تقاضوں، کسٹمز ویلیوایشن، اسکیننگ، ایگزامینیشن کے طریقہ کار اور ٹرمینل آپریٹرز و بینکوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔








