ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، شاہد عمران

ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، شاہد عمران

لاہور۔18اکتوبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کے ازالے کے لیے اپنا موسمیاتی قرض ادا کریں اور اپنی تاریخی ذمہ داریاں پوری کریں۔

فیملی فوڈ گروپ آف انڈسٹریز کے زیراہتمام خوراک اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو تقریبا30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے کئی سال تک غذائی عدم تحفظ میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے منصفانہ منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عالمی موسمیاتی پالیسیوں میں انصاف، مساوات اور عالمی حدت کے حوالے سے تاریخی ذمہ داریوں کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔شاہد عمران نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں نسبتا کم حصہ ڈالنے کے باوجود سیلاب، خشک سالی، بڑھتے درجہ حرارت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے سنگین اثرات برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو مناسب موسمیاتی مالی معاونت، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی مزاحمت کی حامل زراعت، پائیدار غذائی نظام اور عالمی تعاون میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباروں اور کمزور طبقات کے روزگار کا تحفظ اور طویل مدتی معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔