وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ جامعات کو تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے قومی معیشت کی ترقی کا محرک بننا ہوگا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ماسٹرز کانووکیشن 2026 کی پیر کو منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی معاشی …
جامعات کو تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے قومی معیشت کی ترقی کا محرک بننا ہوگا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ جامعات کو تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے قومی معیشت کی ترقی کا محرک بننا ہوگا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ماسٹرز کانووکیشن 2026 کی پیر کو منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی معاشی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان برآمدات، فی کس آمدنی اور ٹیکنالوجی کے سفر میں دنیا سے پیچھے ہے جبکہ برآمدی منڈیوں تک رسائی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملکی معیشت کے ڈھانچے سے متعلق چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ حکومتی پروگرام ’’اڑان پاکستان‘‘ کی اولین ترجیح ہے اور جامعات کو اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا اپنانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور غیر یقینی صورت حال کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت روایتی نظاموں کو بدل رہی ہے اور سیاسی و معاشی استحکام کی صورت حال بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں اصلاحات کے لیے پرامن اور مستحکم ماحول ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اپنی ترقی کی سمت بدلنے کے لیے وسائل موجود ہیں جس کے لئے نوجوان اس کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے جامعات پر بھی زور دیا کہ وہ حکومت کو اہم قومی مسائل کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز فراہم کریں۔انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو زندگی کی ناکامیوں سے سیکھنے اور اپنے اپنے شعبوں میں ملک و قوم کی فلاح کے لیے کام کرنے کی تلقین کی۔ کانووکیشن کی تقریب کا انعقاد جامعہ کے مرکزی کیمپس میں ہوا جس میں 66 پی ایچ ڈی سکالرز کو ڈگریاں دی گئیں جبکہ 26 انڈرگریجویٹ طلبہ کو صداتی طلائی تمغے جبکہ 28 کو چانسلر کے نقرئی تمغوں سے نوازا گیا۔ نسٹ کا ماسٹرز کانووکیشن 2026 جامعہ کے کانووکیشن ویک 2026 کے آغاز کا حصہ ہے۔ اس موقع پر ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے فارغ التحصیل طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دی اور کہا کہ گریجویشن طلبہ کی زندگی میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے جس میں انہیں پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی سفر میں والدین کی قربانیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ نسٹ طلبہ کو علمی قابلیت کے ساتھ معاشرے کی خدمت کے لیے بھی تیار کر رہی ہے۔ ڈاکٹر زاہد لطیف نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں صرف علم کافی نہیں بلکہ دیانت داری، راست روی اور لگن بھی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے مطابق نسٹ میں تعلیم کا بنیادی مقصد شخصیت اور کردار کی تعمیر ہے جس میں اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار تبدیلی کے دور میں جامعہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور قائدانہ صلاحیتوں کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔خواتین گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر نسٹ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اپنے شعبوں میں ہمت اور صلاحیت کے ساتھ قیادت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ نسٹ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور تمام گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔







