لاہور۔6مارچ (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لئے پنجاب میں پائیدار زرعی ترقی کے انقلابی منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔ ترجمان نےمزید کہا کہ اس5 سالہ منصوبے کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید نظام آبپاشی کی سہولیات دینے کے لئے مجموعی طور پر 68 ارب روپے کی لاگت سےعملدرآمد جاری ہے جس کےلئے45ارب روپے سے زائد عالمی بینک …
جدید نظام آبپاشی کی تنصیب سے منافع بخش زراعت کو فروغ ملے گا، محکمہ زراعت پنجاب

مزید خبریں
لاہور۔6مارچ (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لئے پنجاب میں پائیدار زرعی ترقی کے انقلابی منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔ ترجمان نےمزید کہا کہ اس5 سالہ منصوبے کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید نظام آبپاشی کی سہولیات دینے کے لئے مجموعی طور پر 68 ارب روپے کی لاگت سےعملدرآمد جاری ہے جس کےلئے45ارب روپے سے زائد عالمی بینک معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت3 ہزار کھالہ جات کو پختہ کیا جارہا ہے، 40ہزار ایکڑ پر ہائی ایفیشنسی نظام آبپاشی اور 20 ہزار ایکڑ پر سولر سسٹم کی تنصیب اور1 ہزار پانی ذخیرہ کرنے والے تالابوں کی تعمیر کاکام جاری ہے جس سے صوبہ بھر میں سالانہ10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی بچت ہوگی اور قریبا6لاکھ ایکڑ تک پانی کی نقل و حمل میں بہتری آئے گی جس سے کاشتکاروں کے مابین پانی کی تقسیم میں 40فیصد تک بہتری پیدا ہوگی۔
منصوبےکی تکمیل سے 13 لاکھ سے زائد دیہی فارم خاندانوں کو براہ راست فائدہ حاصل ہوگا اورکاشتکاروں کو ویلیو ایڈیشن اور منافع بخش فصلات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی۔ترجمان نے بتایا کہ زرعی شعبہ میں پانی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جائے گا جس سے چھوٹے کاشتکاروں کو براہ راست فائدہ ہوگا،اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔
اس منصوبے سے 40 ہزار ایکڑ رقبہ پر کلائمیٹ سمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے گرین ہاوس گیس کے اخراج میں 15 ہزار ٹن کمی واقع ہوگی، اس کے ساتھ پنجاب میں فصلوں کی پیداوار میں 25 فیصدجبکہ پانی کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد تک بہتری آئے گی۔اس منصوبے سے5 ہزار سے زائد دیہی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔








