جنوبی افریقا کی مصنفہ کورل ہارٹ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے 370 کتابیں لکھ لیں،رپورٹ

جنوبی افریقی مصنفہ کورل ہارٹ نے فروری 2025 سے اب تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے 370 سے زائد کتابیں شائع کی ہیں۔ بنگلہ دیشی نیو ز ایجنسی بی ا یس ایس کے مطابق سوشل میڈیا پر اس مصنفہ کو ’’دھوکے باز‘‘ اور ’’ولن‘‘ جیسے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ کورل ہارٹ اشاعتی صنعت میں مصنوعی ذہانت کی آمد کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہیں۔ انہوں نے …

کیپ ٹائون ۔23اکتوبر (اے پی پی):جنوبی افریقی مصنفہ کورل ہارٹ نے فروری 2025 سے اب تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے 370 سے زائد کتابیں شائع کی ہیں۔ بنگلہ دیشی نیو ز ایجنسی بی ا یس ایس کے مطابق سوشل میڈیا پر اس مصنفہ کو ’’دھوکے باز‘‘ اور ’’ولن‘‘ جیسے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ کورل ہارٹ اشاعتی صنعت میں مصنوعی ذہانت کی آمد کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہیں۔ انہوں نے اپنا اصل نام محفوظ رکھنے کے لیے فرضی نام اختیار کر رکھا ہے۔

اے ایف پی کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں نفرت انگیز نوعیت کے ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار پیغامات اور جان سے مارنے کی متعدد دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔اس مخالفانہ ماحول میں مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے بہت کم مصنفین عوامی سطح پر بات کرنے اور اپنی شناخت ظاہر کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔کورل ہارٹ نے کہا کہ انہوں نے آگے بڑھ کر اس بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر گفتگو شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی اب موجود ہے اور محض چند مصنفین کے مطالبے پر اسے بند یا ختم نہیں کیا جائے گا۔تقریباً 20 ماہ قبل مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھنا شروع کرنے سے پہلے ہارٹ 14 سال تک اشاعتی صنعت سے وابستہ رہی تھیں اور اس ٹیکنالوجی کے بغیر بھی کئی درجن کتابیں اور تحریری کام تخلیق کر چکی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ کتاب تیار کرنے کے قابل نظام وضع کرنے اور مختلف اے آئی ماڈلز سے واقفیت حاصل کرنے میں انہیں تین ماہ لگے،اب وہ مختلف اے آئی ماڈلز استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق چیٹ جی پی ٹی مکالمے لکھنے میں بہت اچھا ہے لیکن نثری تحریر میں کمزور ہے جبکہ کلاڈ کہانی کی ساخت بہتر بناتا ہے لیکن جنسی خواہشات کی عکاسی میں کمزور ہے۔ گروک جیسے دیگر ماڈلز بے قابو انداز میں کام کرتے ہیں، تاہم ان سے جرات مندانہ مناظر لکھوانے میں مدد ملتی ہے۔ہارٹ نے کہا کہ اگر آپ چیٹ جی پی ٹی یا کلاڈ سے صرف یہ کہیں کہ میرے لیے ایک کتاب لکھ دو تو نتیجے میں انتہائی ناقص تحریر سامنے آئے گی کیونکہ ماڈل کو کام کرنے کے لیے ضروری مواد فراہم نہیں کیا گیا ہوتا۔

مصنفہ پہلے کہانی کا بنیادی تصور، اسلوب، کرداروں کی تفصیلات اور ابواب کے خاکے تیار کرتی ہیں اس کے بعد ان کا وضع کردہ نظام کتاب تخلیق کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تو ایک وقت میں صرف ایک پیراگراف لکھوایا جا سکتا تھا اور اس کے لیے بھی عموماً دو یا تین ہدایات دینا پڑتی تھیں، تاہم اب وہ ایک ہی مرحلے میں پوری کتاب کا ابتدائی مسودہ تیار کر سکتی ہیں۔ہارٹ کے مطابق گزشتہ سال سے اے آئی ماڈلز میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان کی نثر، قواعد اور جملوں کی ساخت پہلے سے بہتر ہو گئی ہے۔