جنوبی ایشیا کے ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ علاقائی مفادات، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لئے تعاون کو فروغ دیں، ماہرین

ماہرین نے جنوبی ایشیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ علاقائی مفادات، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لئے تعاون کو فروغ دیں، جنوبی ایشیا کو درپیش روایتی اور غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون کی بحالی اور موجودہ حالات کے مطابق ادارہ جاتی طریقہ کار کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی …

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):ماہرین نے جنوبی ایشیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ علاقائی مفادات، معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لئے تعاون کو فروغ دیں، جنوبی ایشیا کو درپیش روایتی اور غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون کی بحالی اور موجودہ حالات کے مطابق ادارہ جاتی طریقہ کار کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام ’’جنوبی ایشیا میں علاقائیت کا ازسرنو تصور‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں مقررین نے کہا کہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور تزویراتی اہمیت کے حامل خطے کے ممالک باہمی تعاون کے بغیر انسانی ترقی، معاشی خوشحالی اور پائیدار امن کے اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔

سیمینار کا اہتمام آئی ایس ایس آئی کے انڈیا سٹڈی سینٹر نے کیا۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین میں چین میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد، پاکستان میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر فضل لہانی بابو، سری لنکا کے ادارے ساسری کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر منیشا واناسنگھے پاسکوال، آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل معین الحق اور ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین خالد محمود شامل تھے۔مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے غیر فعال ہونے کے باوجود خطے میں تعاون کے فروغ کے لئے سب سے موزوں فورم ہے، اس پلیٹ فارم کو فعال بنانے کے لئے ضروری ہے کہ رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مسائل کی بنیاد پر تعاون کو ترجیح دی جائے اور ادارے کو کسی ایک یا چند ممالک کے سیاسی مفادات کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سارک کے تمام رکن ممالک کو خودمختار اور برابر کی حیثیت سے تسلیم کرنا علاقائی تعاون کی کامیابی کے لئے بنیادی شرط ہے۔ رکن ممالک کو چاہئے کہ وہ سیاسی تنازعات کو عملی اور عوامی اہمیت کے حامل معاملات سے الگ رکھتے ہوئے ایسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کریں جن سے خطے کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔سیمینار میں غربت کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جدید اور خلل انگیز ٹیکنالوجی، نقل مکانی، تجارت میں سہولت، معاشی ترقی، بحری تعاون اور صحت عامہ کو علاقائی اشتراک کے اہم شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ مقررین کے مطابق ان معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے سے نہ صرف معاشی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ خطے کے ممالک کو مشترکہ خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سارک کی بحالی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی ممالک کو محدود تعداد میں شریک ممالک پر مشتمل علاقائی تعاون کے متبادل انتظامات پر بھی غور کرنا چاہئے،ان کے مطابق ایسے اقدامات مخصوص شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

چین کو بھی ان علاقائی اقدامات میں شرکت کی دعوت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کیونکہ خطے میں استحکام اور تعاون کا فروغ اس کے مفاد میں بھی ہے۔مہمان خصوصی جلیل عباس جیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علاقائی تعاون کی کامیابی کے لئے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور تمام ممالک کو مساوی خودمختار حیثیت دینے کا جذبہ ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کی قیادت دو ارب سے زائد آبادی کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دانشمندی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے گی۔

مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں وسیع آبادی، جغرافیائی اہمیت اور معاشی امکانات کے باوجود باہمی تعاون کی کمی خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مشترکہ چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک اختلافات کے بجائے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں اور تعاون کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکا نے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے امکانات اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید خبریں