حضور سرور کونین محسن انسانیت حضرت محمد ۖ کا خطبہ حجة الوداع انسانی حقوق کا عظیم چارٹر اور قیامت تک انسانیت کیلئے سرچشمہ رشد و ہدایت ہے

اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) حضور سرور کونین محسن انسانیت حضرت محمد ۖ کا خطبہ حجة الوداع انسانی حقوق کا عظیم چارٹر اور قیامت تک انسانیت کے لئے سرچشمہ رشد و ہدایت ہے۔ خطبہ حجة الوداع اگر ہم اپنی زندگیوں کا شعار بنا لیں تو عالم اسلام کو درپیش عہد حاضر کے تمام مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ حضور سرور کونین نے 1387 سال قبل ہجرت …

اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) حضور سرور کونین محسن انسانیت حضرت محمد ۖ کا خطبہ حجة الوداع انسانی حقوق کا عظیم چارٹر اور قیامت تک انسانیت کے لئے سرچشمہ رشد و ہدایت ہے۔ خطبہ حجة الوداع اگر ہم اپنی زندگیوں کا شعار بنا لیں تو عالم اسلام کو درپیش عہد حاضر کے تمام مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ حضور سرور کونین نے 1387 سال قبل ہجرت کے 10 ویں سال 9 ذوالحج بمطابق 6 مارچ 632ء بروز جمعہ ہجرت کے بعد اپنے پہلے اور آخری حج کے موقع پر خطبہ حج میں فرمایا کہ ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیدیا، اب کوئی کسی وارث کے حق کے لئے وصیت نہ کرے، بچہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو جائے اس کی سزا پتھر ہے۔ حساب و کتاب اللہ کے ہاں ہو گا۔ جو شخص اپنے آباء کو چھوڑ کر اپنا نسب بدلے گا یا کوئی غلام اپنے آقا کے مقابلہ میں کسی اور کو اپنا آقا ظاہر کرے گا اس پر اللہ کی لعنت قرض قابل ادائیگی ہے۔ ادھار لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہے۔ تحفہ کا بدلہ دینا چاہے اور جو کوئی کسی کا ضامن ہو وہ تاوان ادا کرے۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے۔ خود ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو”۔ محسن انسانیت ۖ نے فرمایا ”عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت کریں۔ کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو اللہ کی جانب سے اس کی اجازت ہے تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو اچھی طرح کھلائو، پہنائو۔ عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ ان کے بارے میں اللہ کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر تمہارے لئے حلال ہوئیں”۔ فخر کونین ۖ نے فرمایا ”لوگو میری بات سمجھ لو کہ میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا۔ میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں اگر تم اس پر قائم رہے اور اس کی پیروی کرتے رہے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ اللہ کی کتاب اور ہاں دیکھو دینی معاملے میں حدود سے تجاوز نہ کرنا کہ تم سے پہلے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے۔ شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں رہ گئی کہ اس کی اس شہر میں عبادت کی جائے لیکن اس کا امکان ہے کہ ایسے معاملات جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور وہ اسی پر راضی ہو، اس لئے تم اس سے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کرنا”۔ رحمت اللعالمین ۖ نے ارشاد فرمایا ”لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت نماز ادا کرو۔ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوة خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو۔ اپنے اللہ کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل امر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جائو گے”۔ سید المرسلین ۖ نے فرمایا” اب مجرم خود اپنے جرم کا ذمہ دار ہو گا اور اب نہ باپ کے بدلہ میں بیٹا پکڑا جائے گا نہ بیٹے کے بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔ سو جو یہاں موجود ہیں یہ احکام اور باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے والا اور محفوظ رکھنے والا اور اے لوگو! تم سے میرے بارے میں (اللہ کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتائو تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ ۖ نے امانت (دین) پہنچا دی اور آپ ۖ نے حق رسالت ادا کر دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی” یہ سن کر نبی اکرم ۖ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ”اللہ گواہ رہنا، اللہ گواہ، اللہ گواہ رہنا”۔