حکومتِ پاکستان نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ٹریول ایجنٹس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے ، وزیر مملکت برائے داخلہ کا نیشنل رسک اینالیسس سمٹ سے خطاب

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ٹریول ایجنٹس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے ذریعے قوانین کو مزید سخت بنایا گیا ہے جس کی بدولت یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں واضح کمی آئی ہے۔ وہ جمعرات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور بارڈر …

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ٹریول ایجنٹس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے ذریعے قوانین کو مزید سخت بنایا گیا ہے جس کی بدولت یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں واضح کمی آئی ہے۔ وہ جمعرات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور بارڈر سکیورٹی اور غیر قانونی امیگریشن کی موثر روک تھام کے لیے انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقدہ ’’نیشنل رسک اینالیسس سمٹ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے ۔

یہ تقریب یورپی یونین کے منصوبے "RAPAK II” (رسک اینالیسس پاکستان، فیز ٹو) کا ایک اہم سنگ میل ہے۔کانفرنس میں یورپی یونین کے انٹرنل افیئرز اور مائیگریشن کے کمشنر میگنس برونر، وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر، فرنٹیکس کے نمائندوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی سفارتی شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ٹریول ایجنٹس کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے ذریعے قوانین کو مزید سخت بنایا گیا ہے جس کی بدولت یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں واضح کمی آئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا ہدف غیر قانونی سمگلنگ کے راستوں کو مکمل طور پر مسدود کرنا اور باضابطہ و قانونی ہجرت کے دروازے کھلے رکھنا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رسک اینالیسز یونٹ کی کامیابیوں کو سراہا اور بتایا کہ یورپی یونین اور آئی سی ایم پی ڈی کے تعاون سے ایف آئی اے اس رسک اینالیسزنظام کو ملک بھر کے تمام زونز تک وسعت دینے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید پروفائلنگ اور خطرات کی جانچ کے جدید ماڈلز نے پاکستانی بارڈرز پر غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کے متعلقہ سرحدی اداروں اور شراکت داروں کے درمیان مربوط بارڈر مینجمنٹ کے باہمی تعاون کی یادداشت پر باضابطہ دستخط بھی کیے گئے۔

 

مزید خبریں