حکومت بلوچستان کا ڈیجیٹل بزنس ماڈل کامیابی سے ہمکنار ، 20 کروڑ کی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے آمدن حاصل

حکومت بلوچستان کا ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا منفرد بزنس آئیڈیا کامیابی سے ہمکنار ہوگیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا گیا

کوئٹہ۔ 16 جون (اے پی پی):حکومت بلوچستان کا ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا منفرد بزنس آئیڈیا کامیابی سے ہمکنار ہوگیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا گیا اس کامیابی کے اعتراف میں چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران بلوچستان کے دس نمایاں ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو اعزازی سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا جبکہ صوبے میں ڈیجیٹل اکانومی کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے دس ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والے انفلوئنسرز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی میر عبدالصمد گورگیج، مشیر امور نوجوانان و کھیل مینا مجید بلوچ، سردار کوہیار خان ڈومکی، حاجی علی مدد جتک سمیت اعلیٰ سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں صرف 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ایک ارب روپے کی آمدن حاصل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید دور میں دانشمندانہ اور سمارٹ سرمایہ کاری کے ذریعے غیر معمولی معاشی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پوری دنیا میں بے شمار مواقع موجود ہیں اور نوجوانوں کو ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے جدید مہارتوں سے آراستہ ہونا ہوگا ۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ عالمی سطح پر آئی ٹی کے شعبے میں تقریباً 50 کروڑ ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں اور بلوچستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں پسماندہ طبقات، نوجوانوں اور محروم علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہارڈ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سافٹ انٹریکشن اور انسانی وسائل کی ترقی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اسی تناظر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں انسانی استعداد کار، تحقیق، مہارتوں کی ترقی اور جدید علوم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے تین ہزار سے زائد اسکول فعال کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران صوبے کی جامعات کو آٹھ ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں تحقیق، مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی جامعات اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت اقلیتوں، ٹرانس جینڈر افراد اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ و طالبات کے لیے دنیا کی ممتاز جامعات تک رسائی کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات ترقی کے مساوی مواقع حاصل کر سکیں تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت، نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو ڈیجیٹل ترقی اور معاشی استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تقریب میں ڈی جی بز کے دس پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈ دی گئیں جبکہ پروگرام ڈائریکٹر جواد خان کو پارلیمانی سیکرٹری و سیکرٹری آئی ٹی نے خصوصی شیلڈ سے نوازا۔

مزید خبریں