حکومت نے کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی
حکومت نے کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی ہے، 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن والے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ سالانہ آمدن والے کاروباروں کے لیے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کے سپر ٹیکس کے اثرات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سپر ٹیکس کاروباری طبقے پر بھاری بوجھ رہا ہے اور حکومت بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اس بوجھ کو کم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ مالی سال کے دوران کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کے ساتھ متعدد طویل ملاقاتیں کیں جن میں ترجیحی بنیادوں پر زیر بحث آنے والے ٹیکس مسائل میں سپر ٹیکس بھی شامل تھا۔
حکومت نے مالی گنجائش دستیاب ہونے پر حالیہ بجٹ میں اس حوالے سے اقدامات کیے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں سب سے پہلے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کو ترجیح دی جبکہ اس کے بعد کاروباری طبقے کو سپر ٹیکس سے ریلیف فراہم کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ بجٹ سے قبل 15 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ سالانہ آمدن والے کاروبار سپر ٹیکس کے دائرے میں آتے تھے۔ نئے بجٹ کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن والے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ آمدن والے کاروباروں کے لیے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت مستقبل میں مالی گنجائش دستیاب ہونے پر سپر ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کو بھی سپر ٹیکس سے متعلق ریلیف دیا ہے۔ ایسے کاروبار جن کی مجموعی فروخت کا 80 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ برآمدات پر مشتمل ہو، انہیں برآمدی کاروبار تصور کیا جائے گا اور ان پر سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے اور ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کے لیے دستیاب مالی گنجائش کے مطابق اقدامات جاری رکھے گی۔







