وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم ای اے )کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی اور علاقائی تجارت میں رکاوٹوں ،عالمی سپلائی چین کی مشکلات اورہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا
حکومت پائیدار، برآمدی بنیاد پر اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے نجی شعبے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر تجارت

مزید خبریں
اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم ای اے )کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی اور علاقائی تجارت میں رکاوٹوں ،عالمی سپلائی چین کی مشکلات اورہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ پی سی ایم ای اے کی جانب سے اتوار کو جاری بیان کے مطابق وفد میں ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، وائس چیئرمین ریاض احمد اور سینئر ممبر عثمان اشرف شامل تھے جبکہ اس موقع پرڈائریکٹر جنرل ( ٹیکسٹائل ) مدثر رضا صدیقی بھی موجود تھے۔وفد نے وفاقی وزیر تجارت سے رواں سال اکتوبر میں شیڈول ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کے لئے فنڈز کے اجرا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی خریداروں کو ہاسپیلٹی پیکج کی پیشکش اور برآمدات کے فروغ کے لئے بلا تاخیر پیشرفت نا گزیر ہے ۔وفد نے وزیر تجارت سے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی سپلائی چین کو بحال رکھنے کےلئے خام اون کی برآمد پر پابندی عائد کرنے اورعالمی نمائشوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے سبسڈی کے موجودہ تناسب 50/50 کو80/20کرنے کے مطالبات بھی پیش کئے ۔وفاقی وزیر تجارت نے پاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، وزارت تجارت سٹیک ہولڈرزکی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابل عمل حل تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طویل المدتی برآمدی حکمت عملی کا محور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ، برآمدی بنیاد پر مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا، مصنوعات کی برانڈنگ کو فروغ دینا اور عالمی ویلیو چین میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔انہوں نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کریں، مصنوعات میں جدت اور پاکستان کے دستکاری کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ملاقات کے دوران بین الاقوامی منڈیوں تک بہتر رسائی کے لیے تجارتی رابطوں اور لاجسٹک سہولیات کو مزید موثربنانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی تاکہ تجارت کی راہ میں حائل حقیقی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور پائیدار، برآمدی بنیاد پر اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔پی سی ایم ای اے کے وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کے افتتاح کی بھی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا ۔








