اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):خدمات کے شعبہ کی قومی برآمدات میں گزشتہ چار سال کے دوران 50.14فیصد جبکہ گزشتہ10 سال میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز( آئی سی ٹی) کی برآمدات میں 347.84فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خدمات کے شعبہ کی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ شعبہ کی ترقی سے روزگارکے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کی ترقی کے اہداف …
خدمات کے شعبہ کی قومی برآمدات میں گزشتہ چار سال کے دوران 50.14فیصد ، گزشتہ10 سال میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجیزکی برآمدات میں 347.84فیصد کا نمایاں اضافہ
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):خدمات کے شعبہ کی قومی برآمدات میں گزشتہ چار سال کے دوران 50.14فیصد جبکہ گزشتہ10 سال میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز( آئی سی ٹی) کی برآمدات میں 347.84فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خدمات کے شعبہ کی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ شعبہ کی ترقی سے روزگارکے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کی ترقی کے اہداف کا حصول بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2020میں خدمات کے شعبہ کی قومی برآمدات کا حجم 5392ملین ڈالر رہا تھا جبکہ 2024کے دوران شعبہ کی خدمات سے 8096ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا۔ اس طرح چار سال کے عرصہ کے دوران خدمات کے شعبہ کی ملکی برآمدات میں 2704ملین ڈالر یعنی 50فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعدادوشمارکے مطابق مالی سال 2014 میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز(آئی سی ٹی) کے شعبہ کی ملکی برآمدات سے 811ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا جبکہ مالی سال 2024میں شعبہ کی برآمدات کا حجم 3632ملین ڈالر تک بڑھ گیا۔
اس طرح 10 سال کے دوران آئی سی ٹی کی قومی برآمدات میں 2821ملین ڈالر یعنی 347.84فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈکیا گیا ۔ عالمی ادارہ برائے تجارت(ڈبلیو ٹی او) کی رپورٹ کے مطابق ترجیحی شعبہ جات کی ترقی سے روزگار کی فراہمی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معاشی اہداف کے حصول کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک نے گزشتہ چند سال کے دوران خدمات کے شعبہ کی ترقی سے معاشی اہداف حاصل کئے ہیں۔









