احسن اقبال کی اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معاشی ترقی میں سرمایہ کاری کی دعوت
خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے مثبت کردار نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ، پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
شکاگو8جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستانی نژاد امریکی کاروباری برادری کو پاکستان کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری، اختراع اور علم پر مبنی معیشت کی تعمیر میں فعال شراکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے مثبت کردار نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔
بدھ کو یہاں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے شکاگو میں پاکستانی نژاد امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، ٹیکنالوجی ماہرین اور مالیاتی شعبے سے وابستہ ممتاز افراد کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں فارچیون 500 کمپنیوں کے سابق اعلیٰ عہدیداروں، مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ممتاز ماہرین، امریکی ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی پاکستانی نژاد امریکی شخصیات نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں قومی سلامتی، مؤثر سفارت کاری اور معاشی استحکام میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ اپنے وطن سے مضبوط رشتہ رکھتے ہیں جبکہ پاکستانی نژاد امریکی برادری نے ٹیکنالوجی، مالیات، صحت، توانائی، تعلیم اور تحقیق سمیت ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی اصلاحات کے ذریعے ملک کو دوبارہ معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر دیا ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی لائی، شرحِ سود میں کمی ممکن بنائی اور پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی بحالی کی ایک کامیاب مثال کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اوورسیز پاکستانی اپنی سرمایہ کاری، تجربے، پیشہ وارانہ روابط اور مہارتوں کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے مثبت کردار نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ موزوں وقت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستان کو اپنی سرمایہ کاری اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں کا اہم مرکز بنائیں۔پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس کے شرکاء کو حکومت کے قومی معاشی تبدیلی کے پروگرام ’’اڑان پاکستان‘‘سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کی بنیاد فائیو ایز فریم ورک یعنی برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و بنیادی ڈھانچہ، اور مساوات و بااختیاری پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، سیاحت، معدنیات، بلیو اکانومی، ہنرمند افرادی قوت اور تخلیقی صنعتیں پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے ترجیحی شعبوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری، کاروبار اور اختراع کے فروغ کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فعال شمولیت سے پاکستان اپنی معاشی منزل حاصل کرتے ہوئے ایک مضبوط، مسابقتی اور علم پر مبنی معیشت کے طور پر ابھرے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پاکستانی نژاد امریکی ماہرین تعلیم، محققین اور سائنسی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو، الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف شکاگو اور امریکا ۔پاکستان نالج کوریڈور کے تحت جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کی خدمات سے استفادہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔دورہ شکاگو کے دوران وفاقی وزیر نے یونیورسٹی آف شکاگو کے مختلف شعبوں کے سربراہان اور ماہرین سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں عوامی پالیسی، سرکاری شعبے میں اصلاحات، تعلیمی نصاب، انسانی وسائل کی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔پروفیسر مادھو راجن اور پروفیسر کیٹی ہیرنیاک سے ملاقات میں احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وفاقی و صوبائی سول سروس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے تاکہ حکومتی پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستانی طلبہ کے لئے ایک مشترکہ تعلیمی پروگرام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت وہ اپنی تعلیم کا ایک حصہ شکاگو میں جبکہ ریسرچ کا کام پاکستان میں مکمل کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سول سرونٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئے یونیورسٹی آف شکاگو کے اشتراک سے ایک جدید تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیا جائے گا تاکہ انہیں سائنس، ٹیکنالوجی اور عصر حاضر کی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔بعد ازاں ترقیاتی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر کرسٹینا براؤن اور ریسرچ ڈائریکٹر زوہیب حسن سے ملاقات میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے تعاون سے ملک کے اسکول اور جامعات کے نصاب کا جامع جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا تاکہ نظامِ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، تحقیق پر مبنی اور طلبہ کی فکری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔انسٹی ٹیوٹ برائے موسمیاتی و پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیم اوری سے ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، کاربن کے اخراج سے متعلق تجارتی نظام، بجلی کے نرخوں پر جاری مطالعات، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ساتھ نئی مفاہمتی یادداشت اور موسمی پیش گوئی و قبل از وقت انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے تربیتی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی آلودگی میں نہایت محدود حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔دورہ شکاگو کے اختتام پر تمام فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقتصادی تعاون، انسانی وسائل کی ترقی، تعلیمی اصلاحات، موسمیاتی لچک، علاقائی روابط اور علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے مشترکہ وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔








