خواتین کو بریسٹ کینسر سے متعلق درست معلومات، بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے،بلاول بھٹوزرداری

خواتین کو بریسٹ کینسر سے متعلق درست معلومات، بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے،بلاول بھٹوزرداری

اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہے کہ خواتین کو بریسٹ کینسر سے متعلق درست معلومات، بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے۔میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے بریسٹ کینسر سے آگاہی کے دن پر جاری پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین کو بریسٹ کینسر کے بروقت معائنے کی ترغیب دینے کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے رکھنا ہوگا کہ وہ معائنہ کہاں کروائیں اور علاج کے اخراجات کیسے برداشت کریں، آگاہی کی کوششوں کا حقیقی مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب طبی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنے والی خاتون کو قابلِ رسائی سہولت بھی میسر ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسی خاتون کی بروقت تشخیص اور علاج کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کس علاقے میں رہتی ہے یا اس کے پاس کتنے وسائل ہیں، دوردراز علاقوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کی خواتین کی ضروریات کو طبی سہولیات کی منصوبہ بندی میں مرکزی اہمیت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اکثر گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کے درمیان اپنی صحت کو مؤخر کرتی رہتی ہیں، گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی صحت سے متعلق تشویش کو سنجیدگی سے سنیں اور ڈاکٹر تک پہنچنے، ضروری معائنے کروانے اور علاج جاری رکھنے میں عملی تعاون کریں، کسی خاتون کو اپنی تکلیف بتانے یا طبی مدد مانگنے میں جھجک محسوس نہیں ہونی چاہیے۔

چیئرمین پی پی پی نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ کسی غیرمعمولی تبدیلی کو نظرانداز نہ کریں اور مستند ڈاکٹر سے مشورہ لینے میں تاخیر نہ کریں، بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے صحت یابی کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں اس لیے خوف یا غیرمصدقہ معلومات کی بنیاد پر طبی مشورہ مؤخر نہ کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آگاہی مہمات میں خواتین کو یہ بھی بتایا جائے کہ معائنے کی سہولت کہاں دستیاب ہے اور مزید تشخیص یا علاج کی ضرورت پڑنے پر کس مرکز سے رجوع کرنا چاہیے، لیڈی ہیلتھ ورکرز، طبی عملہ اور میڈیا اس رہنمائی کو خواتین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے ہر مرحلے میں ان کی عزتِ نفس، رازداری اور ضروریات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ صحت کے بارے میں اٹھایا گیا کوئی سوال جھجک کی وجہ سے دب نہ جائے اور علاج کی جانب بڑھایا گیا کوئی قدم وسائل کی کمی کے باعث رک نہ جائے۔

مزید خبریں