وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ عسکری ادارے خیبر پختونخوا میں کان کنی (مائننگ) کے معاہدے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ فوج نے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے یا وہ ان پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خواجہ …
خواجہ محمد آصف نے پاک فوج کا خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کا کنٹرول سنبھالنے کے دعووں کو مسترد کر دیا

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ عسکری ادارے خیبر پختونخوا میں کان کنی (مائننگ) کے معاہدے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ فوج نے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے یا وہ ان پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں معدنیات نکالنے کے لیے ہزاروں لائسنس جاری کیے، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور امریکہ میں مقیم افراد بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعداد و شمار اور متعلقہ تفصیلات شیئر کر دی ہیں، اور میڈیا کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ حکام سے سرکاری معلومات حاصل کرے۔وزیر دفاع نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 232، 234 اور 245 کے نفاذ سے بچنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی۔انہوں نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک کے معاشی اور سفارتی مفادات کے تحفظ میں پاکستان کے دفاعی اداروں کی خدمات کو اجاگر کیا۔آپریشن بنیان المرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ سے متعلق اہم پیش رفت ملک کے دفاعی اداروں کی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ اس کے شہداء، عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کی دی گئی قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع میں سپاہیوں اور اعلیٰ فوجی افسران کی قربانیاں دراصل پاکستان کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجی جوانوں نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں ۔پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے مختلف معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ان پیش رفتوں میں ملک کی عسکری قیادت مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاسی چیلنجوں کے باوجود اپنے وقار اور اصولوں پر قائم رہ کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سعودی عرب، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاکستان کی عسکری قیادت اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے اہم کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے علاقائی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر سفارتی پیش رفت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انہوں نے خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کو ڈاکوؤں کا گروہ قرار دیا اور عزم ظاہر کیا کہ صوبے کو دوبارہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزراء پاک فوج کے شہداء کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اور آئینی اقدامات بار آور ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔
وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پاکستان پر بری نظر ڈالنے والوں کا خاتمہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کے رہنما کہا کرتے تھے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا گناہ ہے لیکن اب وہی رہنما کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ مولانا ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مخالفین کے ساتھ دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ دوستی اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات کے لیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب پی ٹی آئی کی مہم جویانہ سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاک فوج کے اہلکاروں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔








