سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق نافذ کی گئی، حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اپوزیشن کے رویے کے باعث یہ نتیجہ خیز نہ ہو سکی، ہمیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی تعصبات اور نفرتوں کو ختم کرکے ملکی ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنا چاہئے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق نافذ کی گئی، راجہ پرویز اشرف

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق نافذ کی گئی، حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اپوزیشن کے رویے کے باعث یہ نتیجہ خیز نہ ہو سکی، ہمیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی تعصبات اور نفرتوں کو ختم کرکے ملکی ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنا چاہئے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئینی تحفظ حاصل ہے، جمہوریت پسند کوشش کرتے ہیں کہ ایسا اقدام نہ ہو لیکن بعض حالات میں ایسا کرنا پڑتا ہے، ماضی میں بھی صوبوں میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں مسائل حل کرنے کیلئے مذاکرات کی کوشش کی گئی، بعض رویوں کے باعث یہ کوشش ثمر آور نہ ہو سکی، سیاست میں بات چیت کو ترجیح دی جاتی ہے، پی ٹی آئی کو اپنے طرز فکر اور رویے کو دیکھنا چاہئے، اس سے جمہوریت اور سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق لگائی گئی ہے، پاکستان کو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تھا، انہوں نے اسلام آباد پر حملے کی دھمکی دی۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم نے بھی احتجاج کیا تھا لیکن اس میں ایک گملا تک نہیں ٹوٹا تھا۔ انہوں نے احتجاج کیا تو اسلام آباد کا کیا حشر کیا، ہمیں ملکی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے، دہشت گردی پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ بھارت ہمارے درمیان نفرتوں کا بیج بو کر اپنا مفاد حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان دن رات اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، ہمیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی تعصبات اور نفرتوں کو ختم کرکے ملکی ترقی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے، ہم سب پاکستانی ہیں، پارلیمنٹ کو اس سوچ کو پروان چڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی صورت گورنر راج اور ایمرجنسی نہیں لگانا چاہتی تھی اس لئے مذاکرات کو فوقیت دی ۔







