خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹیلی کام آلات کی چوری جیسے مسائل کے باعث انٹرنیٹ سروس متاثر ہوتی ہے، پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری کاقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جواب
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹیلی کام آلات کی چوری جیسے مسائل کے باعث انٹرنیٹ سروس متاثر ہوتی ہے، پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری کاقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹیلی کام آلات کی چوری جیسے مسائل کے باعث انٹرنیٹ سروس متاثر ہوتی ہے، فکسڈ براڈبینڈ میں سالانہ تقریبا 9 فیصد جبکہ موبائل براڈبینڈ کے استعمال میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا ہے،پی ٹی اے کی سرویلنس ٹیم انٹرنیٹ سروس کے معیار کی نگرانی اور اس حوالے سے رپورٹس مرتب کرتی ہے۔
جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سحرکامران،پیرفضل علی شاہ جیلانی،نفیسہ شاہ ،نبیل گبول اوردیگراراکین کے سوالوں کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی وٹیلی کام سبین غوری نے ایوان کوبتایا کہ بعض علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور حفاظتی ضوابط کے باعث ٹیلی کام سروسز کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کے باعث یہ مسائل زیادہ درپیش ہیں۔
ان علاقوں میں ٹاورز موجود ہونے کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، آلات کی چوری اور نگرانی میں مشکلات کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوتی ہے ،ضمنی سوالات پرانہوں نے بتایا کہ 2021-22 سے لیکر 2025-26 تک قومی سطح پر موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ سروے رپورٹس کے مطابق فکسڈ براڈبینڈ میں سالانہ تقریبا 9 فیصد جبکہ موبائل براڈبینڈ کے استعمال میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد میں کمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صارفین فکسڈ یا وائرڈ براڈبینڈ کے بجائے وائرلیس اور موبائل براڈبینڈ کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث فکسڈ کنکشنز کی طرف رجحان کم ہوا ہے ، موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کی طرح انٹرنیٹ صارفین بھی فکسڈ کنکشنز کے بجائے موبائل براڈبینڈ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
پیر فضل علی شاہ جیلانی کی جانب سے موبائل ٹاورز سے نکلنے والی شعاعوں کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے سوال پرپارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ حفاظت سے متعلقہ آلے کے بارے میں انہیں مکمل تکنیکی معلومات حاصل نہیں، اس لیے وہ اس حوالے سے حتمی جواب نہیں دے سکتیں تاہم انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث ایسی شعاعوں کے ممکنہ نقصانات میں کمی آئی ہے، اگرچہ انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے اس مخصوص آلے کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ارکان کو فراہم کریں گی۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی اے انٹرنیٹ سروس کے معیار کی نگرانی کرتی ہے، پی ٹی اے کی سرویلنس ٹیم انٹرنیٹ سروس کے معیار کی نگرانی اور اس حوالے سے رپورٹس مرتب کرتی ہے۔ صارفین کی شکایات کے ازالے اور جن علاقوں میں سروس کے معیار میں خامیاں پائی جاتی ہیں، انہیں دور کرنے کے لیے متعلقہ سیلولر کمپنیوں کو ہدایات بھی جاری کی جاتی ہیں صارفین کے اطمینان کا جائزہ لینے کے لیے سروے شروع کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل شعبے میں پاکستانی نوجوانوں کی کامیابی کو سراہتے ہوئے انہوں نے ایوان کوبتایا کہ وزارت کے ذیلی ادارے اگنائیٹ کے زیر اہتمام ملک بھر کی جامعات میں ہیکاتھونز منعقد کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ملتا ہے حال ہی میں روس میں 22 ممالک کے طلبہ کے درمیان منعقدہ مقابلے میں پاکستان کی ایئر یونیورسٹی کے چار طلبہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ضمنی سوال پر فائیوجی سروس کے نرخوں کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ نئی ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے باوجود ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم انٹرنیٹ کی رفتار بڑھنے کے باعث صارفین زیادہ ڈیٹا استعمال کریں تو ان کے مجموعی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔








