وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کا اٹل فیصلہ کر لیا ہے اور صوبے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جمعرات کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی احکامات کی منظوری کے لئے پیش کردہ قراردادوں پر بحث …
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کا اٹل فیصلہ کر لیا ہے اور صوبے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جمعرات کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی احکامات کی منظوری کے لئے پیش کردہ قراردادوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی کی فتح یا شکست کا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی جانوں کے تحفظ کا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کارروائی کے دوران تمام ارکان کو اظہارِ خیال کا موقع دینے پر سپیکر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز اور آج مشکل حالات کے باوجود بالخصوص اپوزیشن ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا جو قابلِ ستائش ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورتِحال اور وہاں دہشت گردی کے حوالے سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی کا نفاذ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا، حکومت گزشتہ دس سے پندرہ روز سے مسلسل یہ کہہ رہی تھی کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور بعد ازاں اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل عدم تعاون، غیر سنجیدگی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت کی جانب سے وفاقی حکومت کو تعاون کی یقین دہانی نہ کرائے جانے کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لئے شہید پولیس اہلکاروں اور پاک فوج کے شہدا کے اہلِخانہ سے ملاقات کرنی چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اپنے پیاروں کی قربانی دینے والے خاندان کن حالات سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں میں بیک وقت دس، پندرہ اور بیس افراد کی شہادتیں اس صورتِحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔قائد حزب اختلاف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں اور انہیں ایک تجربہ کار سیاستدان سمجھتے ہیں تاہم چیئر کے لئے آج استعمال کئے گئے بعض الفاظ نامناسب تھے اور ان سے گریز کیا جانا چاہئے تھا۔
انہوں نے سپیکر کی جانب سے اپوزیشن ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایسے پروڈکشن آرڈرز کی فہرست موجود ہے جن کے تحت جیلوں میں قید اپوزیشن ارکان کو ایوان میں لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سپیکر نے جس جذبے اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول تک اپنے اقدامات جاری رکھے گی۔







