خیبر پختونخوا میں 49 لاکھ سکول سے باہر بچے وزیراعلیٰ کی جانب سے اقدامات کے منتظر

پشاور۔ 25 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا اپنی تعلیمی ہنگامی صورتحال کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ لاکھوں بچے تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں۔خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے مبینہ طور پر سکولوں سے باہر ہیں اور یہ مسئلہ صرف کلاس رومز اور تعلیمی لیبارٹریوں تک محدود نہیں۔ دوسری جانب صوبے میں نجی سکول عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا …

پشاور۔ 25 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا اپنی تعلیمی ہنگامی صورتحال کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ لاکھوں بچے تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں۔خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے مبینہ طور پر سکولوں سے باہر ہیں اور یہ مسئلہ صرف کلاس رومز اور تعلیمی لیبارٹریوں تک محدود نہیں۔ دوسری جانب صوبے میں نجی سکول عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر سرکاری سکولوں میں واش رومز، چار دیواری، کلاس رومز، لیبارٹریز اور اساتذہ جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔غربت بچوں کو محنت مزدوری پر مجبور کرتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں سکولوں سے زیادہ فاصلہ اور ناکافی بنیادی ڈھانچہ، خصوصاً بچیوں کو تعلیم سے دور رکھتا ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت کےلیے یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اپنے اعلانات کو سکولوں میں داخلوں، بچوں کو تعلیم میں برقرار رکھنے اور تعلیمی معیار میں قابلِ پیمائش پیش رفت میں تبدیل کرے جبکہ بنیادی سہولیات کے فقدان کا مسئلہ بھی حل کرے۔ احتجاجی لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیاں خبروں پر غالب آ سکتی ہیں لیکن تعلیم نسلوں کی تشکیل کرتی ہے۔ آج جو بچہ اسکول سے باہر رہ جاتا ہے وہ کل صوبے کےلیے ایک ضائع شدہ موقع بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کےلیے چیلنج یہ ہے کہ اسکول قابلِ رسائی ہوں، اساتذہ موجود ہوں، بنیادی سہولیات دستیاب ہوں اور وہ بچے جو کبھی کلاس روم میں داخل ہی نہیں ہوئے یا تعلیم چھوڑ چکے ہیں، انہیں دوبارہ تعلیمی نظام میں لایا جائے۔

ہر صبح جب خیبر پختونخوا بھر میں اسکولوں کی گھنٹیاں بجتی ہیں، لاکھوں بچے کلاس روم کے دروازے کے دوسری جانب رہ جاتے ہیں جن میں سے بہت سے بچے سماجی و معاشی عدم مساوات کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ نوشہرہ کا رہائشی 14 سالہ حمزہ خان بھی ایسے ہی بچوں میں شامل ہے جو اپنے خاندان کی مالی معاونت کےلیے صبح سویرے سے رات تک ایک آٹو ورکشاپ میں کام کرتا ہے۔سکول کی کتابیں اٹھانے کے بجائے حمزہ اب گاڑیوں کی مرمت کے اوزار اٹھاتا ہے اور طلوعِ آفتاب سے رات تک گاڑیوں کے نقائص تلاش کرکے انہیں درست کرتا ہے۔ حمزہ کہتا ہے کہ میرے والد چاہتے تھے کہ میں پولیس افسر بنوں لیکن ان کی اچانک وفات کے بعد میں نے ان کے علاج کے لیے لیے گئے قرضے واپس کرنے میں مدد کے لیے سکول چھوڑ دیا۔ حمزہ کےلیے کلاس روم کی جگہ آٹو ورکشاپ نے لے لی ہے اور اس کے والد کا خواب روزمرہ کی بقا کی جدوجہد کے نیچے دب گیا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ جب میں دوسرے بچوں کو سکول جاتے دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔اس کی کہانی ایک ایسے صوبے میں انتہائی عام ہے جہاں تعلیمی محرومی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے کرائے گئے 2023 کی مردم شماری برائے آبادی و مکانات کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال عمر کے بچوں کی تعداد 1 کروڑ 31 لاکھ 30 ہزار ہے جن میں سے 49 لاکھ 24 ہزار یعنی 37.49 فیصد سکول سے باہر ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بچے محنت مزدوری میں مصروف ہیں۔ صنفی فرق اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے جہاں 29 لاکھ 24 ہزار بچیاں سکول سے باہر ہیں جبکہ لڑکوں کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔

دوسرے الفاظ میں صوبے میں سکول جانے کی عمر کے تقریباً ہر 10 میں سے 4 بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ بچیوں کے لیے تعلیمی صورتحال خاص طور پر سنگین ہے، بالخصوص خیبر پختونخوا کے کم ترقی یافتہ اضلاع میں، جہاں 5 سے 16 سال کی عمر کی تقریباً 46.23 فیصد بچیاں سکول سے باہر ہیں جبکہ لڑکوں کی شرح 29.37 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے جہاں 49.13 فیصد بچیاں اور 30.76 فیصد لڑکے سکول سے باہر ہیں۔پی بی ایس کے ضلعی سطح کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ملک کی بلند ترین شرحوں میں سے بعض سکول سے باہر بچوں کی شرح موجود ہے۔ ضلع کولئی پالس کوہستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں سکول سے باہر ہونے کی شرح 83.29 فیصد ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد لوئر کوہستان میں 79.38 فیصد اور اپر کوہستان میں 79.36 فیصد رہی۔

ہر فیصد کے پیچھے ایک بچہ موجود ہے جو شاید محنت مزدوری کر رہا ہو، چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہو، اسکول پہنچنے کے لیے طویل سفر کرتا ہو، کسی فعال تعلیمی ادارے سے بہت دور رہتا ہو، یا ایسے گھرانے میں پرورش پا رہا ہو جو تعلیم سے وابستہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ ہو۔ بہت سی غریب لوگوں میں تعلیم کا براہِ راست مقابلہ غربت سے ہے۔ جب کسی خاندان کے لیے کھانے کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو تو بچے کی مزدوری اس کی مرضی کے بجائے معاشی ضرورت بن سکتی ہے۔ بچیوں کے لیے فاصلے، ناکافی سہولیات، گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی توقعات کی وجہ سے رکاوٹیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ غربت بچوں کو اسکول سے باہر رکھتی ہے، تعلیم کی کمی ان کے مستقبل کے مواقع محدود کرتی ہے اور کم گھریلو آمدنی اسی محرومی کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کر سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد ابراہیم نے تعلیم کو سماجی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ تعلیم تک رسائی آئینی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بنیادی ڈھانچے کی کمی اس مسئلے میں ایک اور پیچیدگی کا اضافہ کرتی ہے۔پسماندہ علاقوں میں خاندانوں کو ایسے اسکولوں کا سامنا ہے جہاں کلاس رومز اور بنیادی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ فاصلے اور رسائی کے مسائل بھی خاص طور پر بچیوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ مردم شماری کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف ان بچوں تک محدود نہیں جو کبھی کلاس روم میں داخل ہی نہیں ہوئے۔ 2023 کی مردم شماری میں شناخت کیے گئے 49 لاکھ 24 ہزار سکول سے باہر بچوں میں سے تقریباً 42 لاکھ 59 ہزار نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا جبکہ تقریباً 6 لاکھ 65 ہزار بچے ایسے تھے جو اسکول گئے لیکن بعد میں تعلیم چھوڑ گئے۔ سابق صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف بلند و بانگ دعووں کے باوجود یکساں نظامِ تعلیم متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بے مقصد لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ واجد علی خان نے کہا کہ صوبے کو بیک وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے بچوں کو پہلی مرتبہ کلاس رومز میں لانا جو کبھی اسکول نہیں گئے اور ان بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دینا جو پہلے ہی اسکولوں میں داخل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ چیلنج وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت کے سامنے ہے، جس نے عوامی خدمات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔تاہم سہیل آفریدی حکومت کےلیے تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کا حتمی پیمانہ یہی ہوگا کہ آیا اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کی وسعت صرف ایک اور داخلہ مہم سے حل نہیں ہوگی۔ حکومت کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، وہ اسکول کیوں نہیں جاتے اور کون سا عملی اقدام انہیں تعلیمی نظام میں شامل یا واپس لانے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک بچے کےلیے حل مالی امداد ہو سکتا ہے جبکہ دوسرے کے لیے قریبی اسکول تک رسائی ضروری ہو سکتی ہے۔ کسی بچی کےلیے محفوظ راستہ، خواتین اساتذہ، فعال واش روم یا گھر کے قریب سکول کی موجودگی باقاعدہ حاضری کو ممکن بنا سکتی ہے۔

حمزہ جیسے کام کرنے والے بچے کے لیے صرف اسکول کا دروازہ کھول دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے خاندان کو پہلے آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ درکار ہو سکتا ہے تاکہ وہ حمزہ کی کمائی پر انحصار کیے بغیر اپنا گزارا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کا تعلیمی بحران ایک معاشی چیلنج بھی ہے۔ ہر وہ بچہ جو سکول سے باہر رہتا ہے، صرف تعلیمی نقصان نہیں بلکہ مستقبل کے ایک کارکن، پیشہ ور، کاروباری شخص، استاد یا سرکاری ملازم کے ممکنہ کردار سے محرومی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی صلاحیت شاید کبھی پوری طرح بروئے کار نہ آ سکے۔ مردم شماری نے ایک واضح بنیادی صورتحال فراہم کردی ہے کہ خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ 24 ہزار بچے اس وقت تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔اب اگلا چیلنج اس بنیادی صورتحال کو عملی اقدامات کے روڈ میپ میں تبدیل کرنا ہے۔

حکومت ضلعی سطح پر سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کرکے، غریب ترین گھرانوں کو ہدف بنا کر، بچیوں اور ان اضلاع کو ترجیح دے کر جہاں تعلیمی محرومی کی شرح سب سے زیادہ ہے، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر، اساتذہ کی کمی اور حاضری کے مسائل حل کرکے، بچوں کو تعلیم میں برقرار رکھنے کے پروگرام مضبوط کرکے اور باقاعدگی سے آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق پیش رفت کے اعداد و شمار شائع کرکے آغاز کر سکتی ہے۔سڑکوں پر رہنے والے بچوں کےلیے خصوصی وظائف انہیں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے میں مددگار ثابت ہوں گے خصوصاً سکولوں میں دوسری شفٹیں شروع کرکے۔

حمزہ کے لیے تعلیمی بحران کوئی مجرد پالیسی بحث نہیں بلکہ یہ اس فرق کا نام ہے کہ وہ اپنے دن گاڑیوں کی مرمت میں گزارے یا اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کرے جو کبھی اس کے والد نے اس کے لیے دیکھا تھا۔خیبر پختونخوا بھر میں لاکھوں بچے اسی فرق کے پیدا ہونے کے منتظر ہیں۔ سہیل آفریدی کی حکومت کو درپیش بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا صوبہ قابلِ پیمائش نتائج کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے کلاس رومز میں داخل ہوں اور تعلیم جاری رکھیں، بجائے اس کے کہ ایک اور نسل کلاس رومز سے باہر رہ جائے۔