دانش سکولوں کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے وژن کا حصہ ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب
دانش سکولوں کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے وژن کا حصہ ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مالی وسائل کی کمی لاکھوں ذہین بچوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دانش سکولوں کا قیام غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے وژن کا حصہ ہے، دانش سکولوں کا مقصد ان بچوں کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بلکہ ان سے بہتر تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیتوں سے ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں، ملک بھر میں دانش سکولوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور اس وقت مختلف علاقوں میں 27 دانش سکول زیر تعمیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں اسلام آباد میں دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ آج یہاں صرف وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوام کے ایک خادم کی حیثیت سے موجود ہیں اور تقریب میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں، طلبہ کے تاثرات اور دانش سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابیوں نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔انہوں نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خصوصی صلاحیتوں کی حامل ایک طالبہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے زندگی کی مشکلات کے باوجود امید نہیں چھوڑی اور ثابت قدمی سے اپنی جدوجہد جاری رکھی، اس کے والد محنتی اور تعلیم دوست پاکستانی ہیں، تاہم ان کے پاس اپنی بیٹی کو تعلیم دلانے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل نہیں تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں ذہین اور باصلاحیت لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جو اپنی محنت، قابلیت اور مسلسل کوششوں سے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو اقوام عالم میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ غریب خاندانوں کے والدین شدید گرمی اور سردی میں کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں محنت کرکے حلال روزی کماتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ پنجاب کے خادم تھے تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہواکہ امیر خاندانوں کے بچے ایچی سن کالج جیسے ممتاز تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ ملک کے دور دراز علاقوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے غریب ترین خاندانوں کے ذہین بچے ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسی وژن کے تحت 2010 میں ان کی ٹیم نے دانش سکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے وہی مواقع میسر آ سکیں جو صاحب ثروت خاندانوں کے بچوں کو حاصل ہیں۔
دانش سکولوں کا مقصد ایچی سن کالج اور دیگر معروف گرامر سکولوں کے معیار کے برابر تعلیم فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ ان سے بہتر تعلیمی معیار حاصل کرنا بھی تھا۔انہوں نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والی طالبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے تمام خواب ختم ہو گئے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کامیابی کی راہ ہموار کی اور وہ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کے قابل ہوئی۔ انہوں نے ایک ایسے نوجوان کا بھی ذکر کیا جو دانش سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر بنا ، اس کی والدہ بھی تقریب میں موجود تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، خون کے دریا عبور کیے اور اپنے گھر بار چھوڑے تاکہ سامراجی غلامی سے نجات حاصل کرکے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک ایسے ملک میں زندگی گزار سکیں جہاں ناانصافی کا خاتمہ ہو اور ہر شخص اپنی محنت، قابلیت، امانت اور دیانت کی بنیاد پر مقام حاصل کر سکے۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے پاکستان میں ہر بچے کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں، خواہ وہ امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہو یا غریب گھرانے سے، یتیم ہو یا مزدور کا بیٹا یا بیٹی، جب تک تمام بچوں کو تعلیم اور علاج کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک پاکستان کو قائداعظم کے تصور کے مطابق ملک نہیں بنایا جا سکتا۔وزیراعظم نے دانش سکولوں میں مختلف صوبوں اور علاقوں سے آنے والے طلبہ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے بتایا کہ جب وہ ڈیرہ غازی خان کے دانش سکول پہنچا تو اسے خدشہ تھا کہ پنجاب میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، لیکن وہاں اسے اور دیگر صوبوں کے بچوں کو ایسی شفقت اور اپنائیت ملی جیسے ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ پیش آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دانش سکول نے ان بچوں کو یہ احساس دلایا کہ یہی اصل پاکستان ہے جہاں سب برابر ہیں اور سب ایک ہیں، خواہ ان کا تعلق بلوچستان، پنجاب، سندھ ، خیبر پختونخوا آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں سے ہزاروں طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور وہ ڈاکٹرز، انجینئرز، پولیس افسران، بیوروکریٹس، سیلز منیجرز اور اساتذہ سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دانش سکول اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، جو اب پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ بن چکا ہے، قائداعظم کے اس خواب کی تعبیر ہیں کہ کراچی سے پشاور تک ہر بچے کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں کا دائرہ اب پنجاب سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 27 دانش سکول زیر تعمیر ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کیے گئے ہیں اور متعلقہ ٹیموں نے دن رات محنت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں میں شمالی وزیرستان، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے علاقوں، بشمول سکردو، سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ طلبہ پاکستان کے خوبصورت گلدستے کی مانند ہیں اور دانش سکولوں کے ذریعے قومی یکجہتی اور مساوات کا پیغام مزید پھیل رہا ہے۔وزیراعظم نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، ، عطا اللہ تارڑ شزا فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، سیکرٹری تعلیم ندیم محمود سمیت متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے ان وزرا، سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، چیف سیکرٹریز اور وزرائے اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دانش سکولوں کے لیے زمینوں کے انتخاب اور دیگر انتظامی امور میں تعاون کیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ دانش سکولوں میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریاں قائم کرنے اور جدید علوم و ٹیکنالوجی تک طلبہ کی رسائی کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جدید مہارتیں حاصل کرکے پاکستان اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں ۔ قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دانش سکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے موقع پر کلاس رومز، سائنس، آئی ٹی اینڈ روبوٹکس لیبز اور آرٹ روم کا دورہ کیا جہاں انہوں نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم دانش سکول میں زیرتعلیم طالب علموں سے بھی ملے اور ان سے شفقت بھری گفتگو کی ۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے جذبے کو سراہا۔اس موقع پر بچوں نے وزیراعظم کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کو دانش سکول کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ دانش سکول اسلام آباد 30 ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے، طلبہ اور طالبات کیلئے الگ الگ اکیڈمک بلاکس بنائے گئے ہیں، ہر بلاک میں 24 کلاس رومز، آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس لیبز بنائی گئی ہیں۔ای لائبریری اور آرٹ روم بھی بنائے گئے ہیں، سکول میں کلاسز ششم، ہفتم اور ہشتم سے شروع کی گئی ہیں اور ہر کلاس میں 120 بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے 360 ہونہار بچوں کو سو فیصد میرٹ پر داخل کیا گیا ہے، 38 اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے اور ضرورت کے مطابق تدریسی سٹاف میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔







