کندیاں/اسلام آبا۔ 23 فروری (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ درخت اگانا نبیۖ پاک کی سنت ہے ، پاکستان کیلئے شجر کاری کتنی اہم ہے ، نوجوانوں اور ہمارے بچوںکو اس کا احساس نہیں ، پاکستان میں جنگلات کو آنکھوں سے تباہ ہوتے ہوئے دیکھا ، کندیاں کے جنگل کا تحفظ مقامی لوگوں کی ذمہ داری ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب جنگلات پر قبضہ کرنے والوں …
وزیر اعظم عمران کا کندیاں میں ” گرین پاکستان ”مہم کے تحت موسم بہارکی شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
کندیاں/اسلام آبا۔ 23 فروری (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ درخت اگانا نبیۖ پاک کی سنت ہے ، پاکستان کیلئے شجر کاری کتنی اہم ہے ، نوجوانوں اور ہمارے بچوںکو اس کا احساس نہیں ، پاکستان میں جنگلات کو آنکھوں سے تباہ ہوتے ہوئے دیکھا ، کندیاں کے جنگل کا تحفظ مقامی لوگوں کی ذمہ داری ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب جنگلات پر قبضہ کرنے والوں کو جیل میں ڈالیں، حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان میں درخت اگائے تو بنجر زمین درخت لگنے کے بعد ایک تفریح مقام بن گئی ، درخت لگانا ہمارے نبیۖ کی سنت ہے ، ہم نے تعلیم ، صحت اور پینے کے پانی کا نظام بہتر بنانا ہے ،پسماندہ علاقوں کی ترقی میرا مشن ہے ،میرا وژن قائد اعظم محمد علی جناح کا وژن ہے، میرا مشن پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، ماضی میں بڑے کرپٹ افرادکو چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹوں کو پکڑنا معمول تھا لیکن اب آئی جی پنجاب کو بڑے ڈاکوئوں اور چوروں کے خلاف کارروائی کیلئے کہا ہے۔ اتوار کو کندیاں میں ” گرین پاکستان ”مہم کے تحت موسم بہارکی شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج میں یہاں ایک خاص مقصد کیلئے آیا ہوں کیونکہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو اس بات احساس نہیں کہ پاکستان کیلئے شجر کاری کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔پورے ملک کے سکولوں میں یکساں نظام تعلیم کی خواہش ہے تاکہ اپنے بچوں کو علم سے روشناس کرایا جائے جو اس ملک کے مستقبل کیلئے ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو جنگل انگریز چھوڑ کر گیا تھا ان میں کمی ہوئی ہے ، یہ ملک ان کا ملک نہیں تھا لیکن انہوں نے جنگلات اگائے ۔ آج افسوس سے کہنا پڑا ہے کہ جو جنگل انگریز چھوڑ کر گیا تھا وہ جنگل ہم تباہ کر چکے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ کندیاں کا یہ جنگل بھی انگریز نے بنایا تھا اور تقریباً 20ہزار ایکڑ زمین پر جنگل بنا کر چھوڑ گئے جس میں تقریباً10ہزار ایکڑ رقبہ پر درخت لگائے گئے تھے۔ انہوںنے کہا کہ بچپن میں کندیاں میں ایک بڑا جنگل دیکھا تھا جو آج بھی یاد ہے لیکن آج جب ہیلی کاپٹر سے دیکھا تو درخت نظر ہی نہیں آئے ۔ جنگل میں درخت نہیں ہیں یعنی پورا جنگل ہی تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہماری عوام کو جنگلات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں جبکہ جنگل ہمارے لیے بہت ضروری ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیں جنگل آپ کے مستقبل کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے جنگل تباہ کئے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں جس سے خدانخواستہ آپ کا مستقبل مخدوش ہوسکتا ہے ۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ سکولوں میں بچوں کو علم دیا جائے کہ شجر کاری اس ملک کیلئے اتنی بڑی اہمیت کی کیوں حامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو وہ ملک دیا ہے اور ایسی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑا ہے کہ ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکے ۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں خدا تعالیٰ نے ہمیں کتنی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں سے کتنے لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 12موسموں سے نوازا ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا کے ایسے کون سے ممالک ہیں جہاں 12موسم ہوں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر قسم کی چیز اور پھل پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دریا دیئے ہیں ان کے پانی کا اگر ہم صحیح استعمال کر لیں تو پاکستان پوری دنیا کو اناج مہیا کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سبزیاں اور چینی وغیرہ کی قیمتیں بڑھیں لیکن یہ اشیاء ملک میں کبھی بھی مہنگی نہیں ہونی چاہیں ۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو زمین موسم اور پانی عطا کیا ہے ہم پوری دنیا کو یہ چیزیں بھیج سکتے ہیں ، یہاں تو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح استعمال نہیں کیا، ہمارے نبیۖ کی حدیت ہے کہ درخت اگائو ، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے عظیم ترین انسان حضرت محمدۖ نے ہمیں درخت اگانے کی ہدایت کی ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے دنیا بھر میں درخت اور باغات اگائے ہیں ، کیونکہ ہمارے نبیۖ کا حکم تھا جو ہماری بہتری کیلئے تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میری عمر پاکستان سے 5سال کم ہے اور میں نے اپنی زندگی میں دیکھا کہ پاکستان میں ہم نے جنگلات تباہ کر دیئے۔ بچپن میں چھانگا مانگا دیکھا تھا جس میں بڑے بڑے درخت تھے ، آج وہاں کتنے درخت ہیں ، لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر لئے ہیں ، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ ہمارے جنگلات پر قبضہ کرنے والے مجرم ہیں ان کو مجرموں کی طرح دیکھیں اور بڑے بڑے کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ڈالیں ان پر صرف جرمانے نہ کئے جائیں بلکہ ان کو جیلوں میں ڈالا جائے کیونکہ کے درخت کاٹنا جرم ہے اور یہ جرم ہماری قوم اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے خلاف جرم ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ملک کے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ہم تعلیم ، صحت پر زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں ، علاقے میں پانی کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے عوام کو سہولت دیں گے ۔ وزیر اعظم عمران نے کہا کہ پہلی حکومت ہے جو بڑے ڈاکوئوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے جس سے کرپشن نیچے جانی شروع ہوجائے گی ۔ وزیر اعظم نے ضلع میانوالی میں نمل یونیورسٹی کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی یوریورسٹی بنے گی یہاں پر باہر کے ممالک سے لوگ پڑھنے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب ، کمزور اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہمارا فرض ہے ان علاقوں پر زیادہ پیسے خرچ کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی ملک تب ترقی کرتا ہے وہ اپنے عوام کو ترقی دیتا ہے اس لیے ڈیرہ غازی خان ، مظفر گڑھ ، لیہ اور میانوالی سمیت دیگر پسماندہ علاقوں کی ترقی پر زیادہ فنڈ خرچ کئے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ میرا مشن پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے ، جو قائد اعظم محمد علی جناح کی بھی خواہش تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مدینہ کی سیاست کے اصولوں پر عظیم قوم بننا تھا فلاحی قوم بننے کی بجائے ہمارے ملک میں تھوڑے سے لوگ امیر ترین بن گئے جبکہ زیادہ تر عوام غریب رہ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے سرکاری علاج بہتر ہوتا تھا لیکن آج پرائیویٹ ہسپتالوںمیں علاج اچھا ہے اور صرف غریب ہی سرکاری ہسپتال میں جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم کی خواہش ہے ۔ ماضی میں بھی بڑے بڑے دانشور اردو میڈیم سے نکلتے تھے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں روز گار دینا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہئے اور اگر ریاست روز گار نہ دے سکے تو پیسے دے یہی فلاحی ریاست ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خواہش ہے کہ جب غریب آدمی عدالت جائے تو ریاست اس کیلئے وکیل کا انتظام کرے ، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں ملک کو بری طرح کنگال اور مقروض کیا گیا تھا لیکن ہم پنجاب میں 50لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دے چکے ہیں جس سے 7لاکھ 20 ہزار روپے کے مفت علاج کی سہولت دستیاب ہوگی ۔ پنجاب میں 60لاکھ افراد کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جبکہ پورے خیبر پختونخوا میں سب کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے غریب ترین طبقات کو کفالت کارڈ دیا جائے گا اور ان کو ہر ماہ پیسے دیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہر ماہ 80ہزار لوگوں کو سود کے بغیر قرضے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار کر سکیں ، ایک سال میں پچاس ہزار نوجونواں کو تعلیمی سکالر شپس دی جائیں گی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہاکہ ملک بھر کے دیہات مقیم خواتین کو گائے ، بھنس اور مرغیاں دیں گے تاکہ وہ اپنی آمدن بڑھا سکیں اور اپنی زندگی بہتر کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ نچلے طبقے کی ترقی کی بھرپور کوشش ہے اور یہ ریاست کا بھی فرض ہونا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پسماندہ علاقوں کی ترقی سے ایک فلاحی ریاست بنے گا۔








