اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ایسا شخص برسرِ اقتدار آ گیا ہے جو طاقت کے زور پر عالمی نظام کو چلا …
دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے ، عالمی طاقتوں کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے، علامہ راجہ ناصر عباس

مزید خبریں
اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ایسا شخص برسرِ اقتدار آ گیا ہے جو طاقت کے زور پر عالمی نظام کو چلا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے حساس ترین خطے میں رہتے ہیں جہاں ہر پیش رفت کے اثرات براہِ راست محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک نے ایران کو مذاکرات کا مشورہ دیا جس کے بعد ایران نے امریکہ سے بات چیت کا آغاز کیا۔ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اور ایران کا مسئلہ ایٹم بم بنانا نہیں تھا۔علامہ راجہ ناصر عباس نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ناقابلِ قبول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ، ماضی میں بھی دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ ایران کیمیکل ہتھیار نہیں بنائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کی جارحیت کو نہ روکا گیا تو اس کی ہمت میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے عالمی اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عالمی تنازعات ان فورمز پر لے جائے جاتے تھے مگر اب عالمی فیصلے چند شخصیات کی خواہشات کے مطابق ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایران کا معاملہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کمزور ہوا تو اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔








