دنیا گلوبل وارمنگ کی خطرناک ترین حد کے قریب پہنچ گئی، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومتوں نے اپنے حالیہ ماحولیاتی وعدوں کو پورا کر بھی دیا، تب بھی اس صدی میں زمین کے درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریش نے "انمیشن گیپ رپورٹ” جاری کرتے ہوئے کہا کہ گیسوں کا اخراج اب بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔ قومی ماحولیاتی منصوبے اور موجودہ پالیسیاں خطرناک حد …

اقوام متحدہ ۔22اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومتوں نے اپنے حالیہ ماحولیاتی وعدوں کو پورا کر بھی دیا، تب بھی اس صدی میں زمین کے درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہو سکتا ہے۔العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریش نے "انمیشن گیپ رپورٹ” جاری کرتے ہوئے کہا کہ گیسوں کا اخراج اب بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔ قومی ماحولیاتی منصوبے اور موجودہ پالیسیاں خطرناک حد تک ناکافی ہیں جو 2.6 سے 2.8 ڈگری سیلسیس تک درجہ حرارت میں اضافے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ فی الوقت گلوبل وارمنگ سابق تخمینوں سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔ سب سے زیادہ پرامید امکانات کے مطابق صدی کے وسط تک اوسط درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح سے 1.7 اور 1.8 ڈگری سیلسیس کے درمیان بڑھ جائے گا۔کئی ملکوں میں قابل تجدید توانائی میں تیزی سے توسع اور گیسوں کے اخراج کو کم کرنے والی ماحولیاتی پالیسیوں کے باوجود رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ بہترین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے گیسوں کے اخراج میں فوری اور سخت کٹوتی کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج میں 2030ء تک 2025ء کی سطح سے 18 فیصد، 2035ء تک 45 فیصد اور 2040ء تک 69 فیصد کمی ہونی چاہیے۔ موجودہ قومی منصوبے 2030ء تک اخراج کی حد صرف 5 سے 8 فیصد اور 2035ء تک 11 سے 15 فیصد کمی تک محدود ہے۔رپورٹ نے پیش گوئی کی کہ موجودہ پالیسیوں کے تحت 2100ء تک زمین کا درجہ حرارت 2.8 ڈگری سیلسیس بڑھ جائے گا یا اگر ممالک نے اپنی موجودہ ماحولیاتی التزامات پر مکمل عمل درآمد کیا تو 2.6 ڈگری سیلسیس بڑھے گا۔ دونوں تخمینے گزشتہ سال کی پیش گوئیوں سے زیادہ ہیں۔

یہ تخمینے پیرس معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے بعد ترمیم شدہ تشخیصات کی عکاسی کرتے ہیں۔ترکیہ میں ماحولیاتی مذاکرات کے اگلے دور یعنی 31 ویں ماحولیاتی کانفرنس کے لیے ممالک کی تیاریوں کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ گیسوں کے اخراج کو روکنے کی کوششوں کو ترک نہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حالات سیلاب، آگ اور دیگر قدرتی آفات کو ہوا دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حدود سے گوبل وارمنگ کے حد سے تجاوز کرنے کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے۔ ہم اب بھی اس تجاوز کو کم سے کم حد اور مختصر ترین مدت تک محدود رکھ سکتے ہیں اور صدی کے اختتام تک درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے واپس لا سکتے ہیں۔

یاد رہے 2015ء کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت ممالک نے اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سے کافی نیچے اور مثالی طور پر 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کی کوشش پر اتفاق کیا تھا۔اس بات کے پیش نظر کہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا، اس حد سے تجاوز نہ کرنے یا معمولی تجاوز کے ساتھ۔ اب ممکن نہیں رہا، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے ذکر کیا کہ اس کا نیا امکان جو کم سے کم ممکنہ تجاوز کی نمائندگی کرتا ہے۔

2100ء تک درجہ حرارت کے 1.5 ڈگری سیلسیس یا اس سے کم سطح پر واپس آنے کا تقریباً 50 فیصد موقع فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال سے پیش کردہ ماحولیاتی منصوبوں نے مستقبل میں گلوبل وارمنگ کی پیش گوئیوں میں تقریباً کوئی فرق پیدا نہیں کیا اور 1.5 ڈگری سیلسیس پر واپسی بڑے پیمانے پر ڈی کاربنائزیشن (کاربن کے خاتمے) پر منحصر ہوگی جو ایک غیر یقینی امر ہے۔