ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سیالکوٹ سجاد حیدر نے دھان کے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے سموگ پیدا ہوتی ہے جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی مضر ہے جبکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے
دھان کی باقیات جلانے سے سموگ اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے، کاشتکار آگ لگانے سے گریز کریں،محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 22 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سیالکوٹ سجاد حیدر نے دھان کے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے سموگ پیدا ہوتی ہے جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی مضر ہے جبکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے۔منگل کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کاشتکار دھان کی فصل کی باقیات تلف کرنے کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عمل کریں۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ ضائع ہو جاتا ہے جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت رواں سال 5.5 ارب روپے کی لاگت سے کاشتکاروں کو سپر سیڈرز 60 فیصد سبسڈی پر فراہم کیے گئے ہیں تاکہ جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے کارآمد بنایا جا سکے۔ گندم کی کاشت سے قبل رواں سال 10 ہزار سپر سیڈرز کاشتکاروں کی سہولت کے لیے کھیتوں میں دستیاب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ دھان کے کاشتکار فصل کی باقیات کو آگ لگانے کے بجائے زمین میں ملا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر جبکہ مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو استعمال کرتے ہوئے فصل کی باقیات کو زمین میں ملایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار گہرا ہل چلانے کے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ دے کر آبپاشی بھی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی باقیات زمین میں تحلیل ہو کر نامیاتی مادے میں اضافے اور زمین کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق دھان کی باقیات اور پرالی کو آگ لگانا قابلِ سزا جرم ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور گرفتاری سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے محکمہ زراعت کی تجویز کردہ جدید اور ماحول دوست طریقوں سے تلف کریں۔







