پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے، اسے بہانہ قرار دینے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ، خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس کے دوران دہشت گردی کے ہاتھوں شہادتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ملک کے امن اور سلامتی کو سیاسی …
دہشت گردی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے، ملک کے امن اور سلامتی کو سیاسی اختلافات پر مقدم رکھنا ہوگا،شازیہ مری

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے، اسے بہانہ قرار دینے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ، خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس کے دوران دہشت گردی کے ہاتھوں شہادتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ملک کے امن اور سلامتی کو سیاسی اختلافات پر مقدم رکھنا ہوگا۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد کے ساتھ دہشت گردی کا بھی مقابلہ کیا ہے اور اسے اپنی قربانیوں پر فخر ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں جانوں کی قربانیوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قابلِ تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد حصہ دیا جاتا رہا ہے، اس لیے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024ء میں صوبے میں دہشت گردی کے 700 سے زائد واقعات میں تقریبا 1,300 افراد شہید ہوئے جبکہ 2025 میں 736 واقعات کے دوران شہادتوں کی تعداد 2,300 تک پہنچ گئی۔ اگر صوبائی حکومت آئین کے تحت وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہیں کرتی تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ اقدام کسی کی پہلی ترجیح نہیں تاہم ملک کی بقاء، امن اور سلامتی کو ذاتی پسند و ناپسند پر مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا مقصد خیبر پختونخوا کے منتخب نمائندوں کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کو موثر تعاون کی ضرورت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
شازیہ مری نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ نفرتیں کم کی جائیں، کسی صوبے یا دہشت گردی سے متاثرہ شہری کے خلاف تعصب سے گریز کیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے سیاسی مکالمے کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں دہشت گردی کے مسئلے پر بحث کرانے اور اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔شازیہ مری نے کہاکہ سیاسی رہنماوں سے بات چیت کی جائے، ان پر اعتماد کیا جائے اور سیاسی گنجائش محدود کرنے کے بجائے اختلافات کے حل کی کوشش کی جائے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے قائد کی ضد، ہٹ دھرمی اور سیاسی ناپختگی کے باعث سیاسی مکالمے کے امکانات محدود ہورہے ہیں جس کا نقصان تمام سیاسی جماعتوں اور ملک کو پہنچ رہا ہے۔








