دہشت گردی کا گڑھ افغانستان ، خطے میں امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پر عالمی اداروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جبکہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او)میں عالمی عہدیداران کی جانب سے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔تفصیلات کے مطابق افغان جریدے’’افغانستان انٹرنیشنل‘‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس سی او کے عہدیداران نے متنبہ کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ زیادہ فعال ہو …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پر عالمی اداروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جبکہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او)میں عالمی عہدیداران کی جانب سے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔تفصیلات کے مطابق افغان جریدے’’افغانستان انٹرنیشنل‘‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس سی او کے عہدیداران نے متنبہ کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ زیادہ فعال ہو رہے ہیں ۔

اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (ایس سی او) کے سربراہ اولاربیک شارشییف نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں افغانستان اور شام میں بڑھ گئی ہیں ،دہشتگرد گروہ حملے، سلیپر سیل کے قیام اور فنڈ اکٹھا کرنے کیلئے دائرہ کار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ، افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہ تیسرے ممالک کی جعلی دستاویزات استعمال کر رہے ہیں ۔آزاد ریاستوں کی انسداد دہشت گردی تنظیم کے سربراہ یوجینی سسویف نے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہ علاقائی اثرو رسوخ میں اضافے کیلئے افغانستان میں نقل و حرکت بڑھا رہے ہیں۔

’’افغانستان انٹرنیشنل ‘‘کے مطابق ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی 11ویں کانفرنس تاشقند میں 20-21نومبر کو منعقد ہوئی ، اقوام متحدہ،یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کی تنظیم ، انٹرپول اور دیگر عالمی تنظیموں کےنمائندوں نے شرکت کی، کانفرنس میں شہریوں کو انتہا پسند نیٹ ورکس میں شمولیت سے روکنے اور سائبر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔واضح رہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں پر عالمی تشویش پاکستان کے مؤقف کی جیت ہے۔

مزید خبریں