وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہے، ملک وقوم کے بہترین مفاد میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا،وفاقی حکو مت صوبہ کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے تعاون اور وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ہفتہ کو گوجرانولہ میں بیرسٹر محمود بشیر ورک کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا …
دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہے، ملک وقوم کے بہترین مفاد میں خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی ۔وزیراعظم شہباز شریف

مزید خبریں
گوجرانولہ۔17اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہے، ملک وقوم کے بہترین مفاد میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا،وفاقی حکو مت صوبہ کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے تعاون اور وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ہفتہ کو گوجرانولہ میں بیرسٹر محمود بشیر ورک کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ اور ان کے بعد آنے والے وزیراعلیٰ کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں انہوں نے پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک خوبصورت صوبہ ہے اور اس کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت ہر وقت اور ہر لحاظ سے تعاون کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون، وسائل اور انتظامی فیصلوں میں مدد کی پیشکش کی گئی تاکہ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود صوبے میں سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور اس سے بڑا ظلم اور بدترین ناانصافی کیا ہو سکتی ہےکہ عام شہری، خواتین اور معصوم بچے بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی ملک کو دہشت گردی کے باعث شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں امن قائم ہوا تھا تاہم بعد میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو ایک بار پھر سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے نتیجے میں ملک کو ماضی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حالیہ صورتحال میں وفاقی حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مسلسل مذاکرات کیے اور معاملات طے کرنے کی کوشش کی۔ مذاکرات کے دوران ایک مسودہ بھی تیار کیا گیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ احتجاج اور دھرنے کی کال واپس لے لی جائے گی تاہم آخری مرحلے پر بعض شرکا کی جانب سے مزید وقت مانگنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور معاملات طے نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں جاری ترقی اور خوشحالی کے عمل کو متاثر ہونے سے بچانا چاہتی تھی۔ ایسی صورتحال میں خاموش تماشائی بن کر بیٹھنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے ملک اور آنے والی نسلوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسی لیے پاکستان کے بہترین مفاد میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ اس فیصلے کے مثبت نتائج عطا فرمائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قائم کی گئی ایڈوائزری کونسل میں غیر سیاسی افراد کی اکثریت شامل ہے جو مستند اور اہل ہیں۔ حکومت ان کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جلد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے اور متعلقہ امور پر اجلاس منعقد کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بتدریج بہتری اللہ تعالیٰ کے فضل اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے جس سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان مستفید ہو رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق ایک گھرانے میں پانچ سے چھ افراد کے حساب سے اس ریلیف سے تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ مستفید ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے عوامی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے ریلیف اقدامات میں تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں وزیراعظم نے مرحوم بیرسٹر محمود بشیر ورک کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم انتہائی شفیق انسان تھے، سیاست کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ بیرسٹر محمود بشیر ورک کے ساتھ دیرینہ تعلق تھا اور وہ بڑے بھائی اور بزرگوں کی طرح تھے اور سابق وزیراعظم نوازشریف اور پارٹی کے وفادار رہنما تھے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جب بھی ان سے مشورہ مانگا جاتا انتہائی دھیمے انداز میں گفتگو کرتے تھے، ان کا دنیا سے جانا ہمارے لئے اور ان کے خاندان کے لئے بہت بڑا نقصان ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ بیس پچیس سال میں ایک دو مواقع ایسے آئے اور ان کے ٹکٹ کے حوالے سے چیلنج کیا گیا لیکن نوازشریف کے ذہن میں بیرسٹر محمود بشیر ورک کے علاوہ کبھی کوئی دوسرا نام نہیں آیا جو نوازشریف کی بصیرت اور رفقاء کے حوالے سے عزم کا عکاس ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ صوبہ پنجاب میں مریم نوازشریف کی قیادت میں دن رات صوبے کی ترقی کے لئے کام ہو رہاہے ، دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت اور توفیق عطاء فرمائے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ محنت کرتی رہیں ۔








