رئیل اسٹیٹ میں عوامی شمولیت بڑھانے کیلئے ریئٹ ریگولیشنز میں اصلاحات کر رہے ہیں، چیئرمین ایس ای سی پی

رئیل اسٹیٹ میں عوامی شمولیت بڑھانے کیلئے ریئٹ ریگولیشنز میں اصلاحات کر رہے ہیں، چیئرمین ایس ای سی پی

کراچی ۔1اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کے ریگولیٹری فریم ورک میں اصلاحات کر رہا ہے تاکہ ریئٹ کا قیام زیادہ آسان، قابل عمل اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنایا جا سکے، ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے کے زیادہ سے زیادہ حصے کو باقاعدہ اور ریگولیٹڈ ڈھانچے میں لانا اور عوام کو ریئٹ یونٹس کے ذریعے اس شعبے کی ترقی میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

جمعرات کے روز یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے یہ بات پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریئٹ کی لسٹنگ کے موقع پر منعقدہ گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس لسٹنگ کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، اعلیٰ سرکاری حکام اور پاکستان سٹاک ایکسچینج، عارف حبیب ڈولمین ریئٹ مینجمنٹ لمیٹڈ، جاودان کارپوریشن، سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی اور دیگر کیپٹل مارکیٹ اداروں کے نمائندے بھی تقریب میں موجود تھے۔ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے کا حجم سات ٹریلین روپے سے زائد ہے۔

ریئٹس اس شعبے کو دستاویزی بنانے، شفافیت بڑھانے اور عام سرمایہ کاروں کو مکمل پلاٹ، اپارٹمنٹ یا عمارت خریدے بغیر رئیل اسٹیٹ میں ریگولیٹڈ سرمایہ کاری کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی ریئٹ کے شعبے میں اہم اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں متعارف کرا رہا ہے، کاروبار میں آسانی اور مارکیٹ کی ترقی کے لیے مختلف ضوابط میں ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس اور کمپنیز قوانین میں مجوزہ ترامیم پارلیمنٹ میں زیر غور ہیں جبکہ نان بینکنگ مالیاتی شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک میں بھی اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2026ء میں اب تک 13 ابتدائی عوامی پیشکشوں کے ذریعے 26 ارب روپے کا سرمایہ حاصل کیا گیا ہے، مینوفیکچرنگ، زراعت، رئیل اسٹیٹ، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں نے سٹاک مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کیا۔

ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ مارکیٹ تک رسائی آسان ہونے کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے، ایس ای سی پی نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، قانونی تقاضوں کی آسان تکمیل اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری ایس ای سی پی کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔چیئرمین ایس ای سی پی نے کہا کہ کمیشن مارکیٹ میں شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے قوانین پر موثر عمل درآمد یقینی بنا رہا ہے جبکہ حقیقی کاروبار، جدت اور مارکیٹ کی پائیدار ترقی کے لیے سہولتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔