روس اور چین کی باہمی تجارت میں دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں کا حصہ 100 فیصد کے قریب پہنچ گیا ، روسی وزیر اعظم

روس کے وزیر اعظم میخائل مشوستن نے کہا ہے کہ بیرونی دبائو میں اضافے کے باوجود روس اور چین کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون انتہائی مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں ان کی قومی کرنسیوں کا حصہ 100 فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے ۔تاس کے مطابق روسی وزیر اعظم نے چین کی ریاستی کونسل کے پریمیئر لی چیانگ کے ساتھ …

سینٹ پیٹرزبرگ ۔21اکتوبر (اے پی پی):روس کے وزیر اعظم میخائل مشوستن نے کہا ہے کہ بیرونی دبائو میں اضافے کے باوجود روس اور چین کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون انتہائی مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں ان کی قومی کرنسیوں کا حصہ 100 فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے ۔تاس کے مطابق روسی وزیر اعظم نے چین کی ریاستی کونسل کے پریمیئر لی چیانگ کے ساتھ 31 ویں باقاعدہ ملاقات سے قبل ہونے والی بات چیت کے دوران کہا کہ روس اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً مکمل طور پر قومی کرنسیوں میں کی جا رہی ہے۔

روسی وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں ہماری باہمی تجارت کا حجم 30 گنا سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری، توانائی، ثقافت اور انسانی امور کے شعبوں میں روس اور چین کے درمیان تعاون کی مسلسل پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر تعلقات اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمارے عوام کے درمیان براہِ راست رابطے مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہم روسی اور چینی معیشتوں کے ٹھوس مسابقتی فوائد کی بنیاد پر ترقی کے نئے محرکات پیدا کر رہے ہیں۔

روسی وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین اپنے مشترکہ مفادات کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں اور اپنی صنعتی و تکنیکی خودمختاری کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر باہمی احترام، اچھے ہمسایہ تعلقات اور باہمی فائدے پر مبنی اہداف حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں روس اور چین کے درمیان تعاون کی سٹریٹجک نوعیت کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے کہاکہ یقیناً ہم زراعت میں تعاون اور روس و چین کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ تعلیم، سائنس، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں میں بھی تعاون فعال طور پر فروغ پا رہا ہے۔ ہمارے ثقافتی و سماجی تعلقات کی جڑیں روسی اور چینی عوام کے درمیان دوستی اور باہمی لگائو ​​کی دیرینہ روایات میں پیوست ہیں۔