روس ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان بحران کو حل کرنے کا حامی

ماسکو ۔16دسمبر (اے پی پی):روس نے ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے ایران کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نےایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ماسکو اس بحران سے نکلنے کے لیے ایران کے …

ماسکو ۔16دسمبر (اے پی پی):روس نے ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے ایران کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نےایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ماسکو اس بحران سے نکلنے کے لیے ایران کے اقدامات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کو کمزور کیا گیا ہے اور ایرانی جوہری معاہدے کو نقصان پہنچایا گیا، حالانکہ اس معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کی گئی تھی، جن پر عملدرآمد تمام فریقین پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت لازم ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ روس اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال پر مختلف سطحوں پر، بشمول صدارتی سطح، بات چیت ہو چکی ہے۔ ان مذاکرات میں آئی اے ای اے اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، تاہم حتمی فیصلہ ایران کی قیادت ہی کرے گی۔انہوں نے روس اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس باہمی تجارت میں نمایاں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نارتھ ساؤتھ کوریڈور کے علاوہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ ایک اہم منصوبہ ہے، جس کی تعمیر جاری ہے جبکہ نئے یونٹس بھی منصوبہ بندی اور بعض مقامات پر فعال ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) کے ساتھ تعلقات بھی اضافی مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ایران نے 2023 میں ای اے ای یو کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور تنظیم میں مبصر کا درجہ رکھتا ہے۔ لاوروف کے مطابق یہ معاہدہ ایران اور ای اے ای یو کے رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔