زراعت اب صوبائی معاملہ، وفاقی حکومت بہتر بیجوں کی تیاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے،وزیرِ مملکت ڈاکٹر مختار احمد برتھ

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے کہا ہے کہ زراعت اب صوبائی معاملہ بن چکا، تاہم وفاقی حکومت بہتر بیجوں کی تیاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کر رہی ہے، آئندہ دو سے تین سال میں گندم سمیت مختلف اجناس کے زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کر لیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو سینیٹ اجلاس …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے کہا ہے کہ زراعت اب صوبائی معاملہ بن چکا، تاہم وفاقی حکومت بہتر بیجوں کی تیاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کر رہی ہے، آئندہ دو سے تین سال میں گندم سمیت مختلف اجناس کے زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کر لیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹرز کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت میں کم پانی کے استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے کیونکہ ملک کو پانی کی کمی کا چیلنج درپیش ہے، اس سلسلے میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے اور کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو۔ڈاکٹر مختار احمد برتھ نے کہا کہ پاکستان چاول کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا نواں بڑا ملک ہے جبکہ پنجاب میں زرعی اراضی کے تحفظ کے لیے گرین ایریاز کی نشاندہی کر کے انہیں لاک کر دیا گیا ہے جہاں کسی قسم کی رہائشی کالونی بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں قیمتوں کے تعین کا نظام طلب و رسد کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اجناس کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کو ریلیف ملتا ہے، تاہم اس نظام کو قانونی اور منظم انداز میں چلانا ضروری ہے۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومتِ پنجاب اور وفاقی ادارے جدید زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور دیگر تحقیقی مراکز چین کے تعاون سے کپاس، مکئی اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔